سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 574 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 574

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۴ میں تمہیں کہتا ہوں کہ جب ایسی گالیاں اور ایسے اعتراض سنو تو غمگین اور دلگیر مت ہو کیونکہ تم سے اور مجھ سے پہلے خدا کے پاک نبیوں کی نسبت یہی لفظ بولے گئے ہیں تو ضرور تھا کہ خدا کی وہ تمام سنتیں اور عادتیں جو نبیوں کی نسبت وقوع میں آچکی ہیں ہم میں پوری ہوں۔اور پھر دوسرے مقام پر فرمایا گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو! حصہ پنجم اے مرے پیارو ! شکیب وصبر کی عادت کرو وہ اگر پھیلائیں بدبو تم بنو مُشک تثار نفس کو مارو کہ اُس جیسا کوئی دشمن نہیں چپکے چپکے کرتا ہے پیدا وہ سامان دمار جس نے نفس دُوں کو ہمت کر کے زیر پا کیا چیز کیا ہیں اُس کے آگے رستم و اسفندیار کرکے گالیاں سُن کر دعا دو پا کے دُکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار تم نہ گھبراؤ اگر وہ گالیاں دیں ہر گھڑی چھوڑ دو اُن کو کہ چھپوائیں وہ ایسے اشتہار چُپ رہو تم دیکھ کر اُن کے رسالوں میں رستم دم نہ مارو گر وہ ماریں اور کر دیں حالِ زار دیکھ کر لوگوں کا جوش و غیظ مت کچھ غم کرو شدت گرمی کا ہے محتاج بارانِ بہار افترا اُن کی نگاہوں میں ہمارا کام ہے یہ خیال، اللہ اکبر، کس قدر ہے نابکار خیر خواہی میں جہاں کی خوں کیا ہم نے جگر جنگ بھی تھی صلح کی نیت سے اور کیس سے فرار پاک دل پر بد گمانی ہے یہ شقوت کا نشاں اب تو آنکھیں بند ہیں دیکھیں گے پھر انجام کار (۲۱/۴) اپنی قوم کے لئے دعا ایک نبی ورسول کا چونکہ مقصد ایک قوم کی اصلاح ہوتی ہے۔اس لئے قوم کی اصلاح کے لئے اس کا دل برف کی طرح پکھلتا ہے۔کبھی وہ ان کو وعظ ونصیحت کرتا ہے۔کبھی وہ ان کو انذاری