سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 356 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 356

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۶ بچوں کی دلداری کا کہاں تک خیال رہتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کی دلداری کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔اور اپنے صاحبزادوں کا خصوصیت سے اس لئے بھی خیال رکھا کرتے کہ ان کو آیات اللہ یقین کرتے تھے۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ہر ایک کی پیدائش سے پہلے بطور نشان پیشگوئی فرمائی۔اور حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی " يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَهُ “ کہ کر پیشگوئی فرمائی ہوئی تھی۔پس احترام واکرام اور دلداری آپ آیات اللہ کے اکرام کے رنگ میں بھی فرمایا کرتے تھے۔اس سے قطع نظر ایک شفیق باپ کا نمونہ آپ کے طرز عمل میں ایسا موجود تھا۔کہ اس کی نظیر عام انسانوں میں نہیں بلکہ صرف انبیاء میں ملتی ہے۔حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ایام طفولیت کا ایک واقعہ ہے جس کو حضرت مخدوم الملت نے تحریر فرمایا ہے۔اس کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس شفقت پدری کا نمونہ تھے۔چنانچہ حضرت مخدوم الملت فرماتے ہیں۔” جاڑے کا موسم تھا محمود نے جو اُس وقت بچہ تھا آپ کی واسکٹ کی جیب میں ایک بڑی اینٹ ڈال دی۔آپ جب لیٹیں وہ اینٹ چھے میں موجود تھا آپ حامد علی سے فرماتے ہیں۔حامد علی ! چند روز سے ہماری پسلی میں درد ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چھتی ہے۔وہ حیران ہوا اور آپ کے جسدِ مبارک پر ہاتھ پھیر نے لگا اور آخر اس کا ہاتھ اینٹ سے جالگا جھٹ جیب سے نکال لی اور عرض کیا یہ اینٹ تھی جو آپ کو چبھتی تھی۔مسکرا کر فرمایا۔او ہو چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا اسے نکالنا نہیں میں اس سے کھیلوں گا۔“ ( مصنفہ حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۳۹) نوٹ۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی ایک روایت میں اینٹ کی بجائے آدھی ٹوٹی ہوئی گھڑے کی چپنی اور ایک دو ٹھیکرے لکھا ہے (سیرت المہدی جلد ٢ حصہ چہارم روایت نمبر ۱۰۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)۔(ناشر)