سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 357
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۷ بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے اور اس سے حضور کے استغراق کا بھی پتہ چلتا ہے۔مگر بچہ کی دلداری کا اس قدر خیال ہے کہ اس کی ڈالی ہوئی اینٹ کو بھی جیب میں ہی پڑا رہنے دیا۔اسی طرح حضور کے عفو و در گذر کے نظاروں میں میں دکھا چکا ہوں کہ ایک مرتبہ حضرت خلیفہ ثانی نے جبکہ وہ چار برس کے تھے۔دیا سلائی لے کر حضور کے مسودوں کو آگ لگا دی۔اور آن کی آن میں ساری محنت کو ضائع کر دیا۔مگر آپ نے کسی بھی خفگی یا رنج کا اظہار نہیں کیا۔بلکہ مسکرا کر صرف اتنا کہا۔خوب ہوا۔اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہوگی۔اور اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھائے۔“ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک اور واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت میں نہ تھا کہ کسی ایسی بات پر جو دینی یا اخلاقی حیثیت سے مؤثر نہ ہو بچوں سے سختی کے ساتھ مطالبہ کریں۔بلکہ اسے بچپن کا ایک عام واقعہ سمجھ کر نظر انداز فرماتے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی طبیعت میں اس وقت بھی بہت بڑی سادگی ہے۔بچپن میں تو سادگی ہی نہیں بے پروائی تھی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھے عرفانی نے تمام صاحبزادوں کو ان کے بچپن کے ایام سے دیکھا اور ان کی عادات و حالات کا مطالعہ کیا ہے۔اس لئے ایک ایک واقعہ اس کے سامنے ہے۔میرے محترم بھائی صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے ان کے بچپن کے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے۔میرے سامنے اور موجودگی کا ہے۔اس لئے بھی میں اُسے درج کرتا ہوں۔یہ واقعہ بتا تا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی خوردہ گیری کے خوگر نہ تھے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک روز حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ابھی تھوڑا سا دن چڑھا تھا۔سردی کا موسم تھا۔پندرہ سولہ احباب ساتھ تھے۔پھر پیچھے سے اور بہت سے آملے۔حضرت خلیفہ ثانى مدَّ فَيضُ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بھی آگئے۔اور ایک دوٹر کے اور بھی ان کے ساتھ تھے۔