سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 75 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 75

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۵ حضر اول مطالعہ کتب کی کیفیت باقی نہ رہی تاہم کوئی عجیب اور نئی کتاب آتی تو آپ اسے پڑھ لیتے اور اگر انگریزی میں ہوتی تو اس کا خلاصہ اور ضروری حصص سن لیتے۔میں آپ کی اس عادت پر کسی قدر وضاحت سے سیرت کے نمبر دوم صفحہ ۱۰۸ ( حیات احمد جلد اول صفحه ۱۷۲ ۱۷۳ شائع کردہ نظارت اشاعت ) پر لکھ آیا ہوں۔معمولات مجلس مجلس میں جب آپ تشریف رکھتے تھے تو عام طور پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے جبکہ آپ فرش پر بیٹھے ہوتے تھے اور جب مسجد کے شہ نشین پر بیٹھتے تو ہمیشہ اس طریق سے نشست فرماتے تھے جس طرح پر کرسی پر بیٹھا کرتے ہیں۔گرمی کے موسم میں دستار مبارک اتار کر رکھ لیا کرتے تھے۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آپ کے منہ سے بہت آہستہ مگر اثر اور درد میں ڈوبی ہوئی آواز میں سبحان اللہ سنا جایا کرتا تھا۔اگر کوئی تذکرہ نہ شروع ہو تو آپ علی العموم خاموش رہتے اور کلام کرتے وقت ابتداء آواز ذرا نرم اور دھیمی ہوتی تھی مگر پھر رفتہ رفتہ بلند ہوتی جاتی تھی خصوصاً جب آپ تبلیغی تقریر کر رہے ہوں یا کسی معترض کا جواب دے رہے ہوں تو آپ کی تقریر میں ایک خاص جوش ، قوت اور اثر ہوتا۔اگر دستار مبارک پہنے ہوئے ہوں اور خاموش بیٹھے ہوں تو شملہ کا پلّہ دہن مبارک پر رکھ لیا کرتے تھے اور جب کسی کو خطاب کرتے تو ہمیشہ ایسے الفاظ سے جن میں اکرام پایا جاوے۔آپ کے لفظ سے خطاب کرتے۔مجلس میں کبھی کوئی لغو بات نہ ہوتی تھی۔اگر کوئی شخص اپنا حال سنانے لگے یا کوئی مضمون نظم و نثر سنانے کے لئے اجازت مانگے تو آپ کبھی نہ روکتے اور نہ درمیان میں بولتے۔سنتے رہتے خواہ کیسا ہی کیوں نہ ہو دوسرے نا پسند کرتے ہوں مگر آپ کبھی بھی اشارتا، کنایتاً یا صراحتا اس کی مذمت نہ کرتے۔البتہ اگر کوئی خاص دینی پہلو ہو اور اس کی غلطی کی عدم اصلاح سے نقصان ہوتا ہو تو نہایت ہی لطیف پیرائے میں اس کی اصلاح فرما دیتے۔بات کرتے وقت جوش میں ران پر ہاتھ بھی مارتے تھے اور گر جانے کا تلفظ گڑ جانے سے