سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 76
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام 24 حصہ اول کرتے تھے۔جب تک مجلس میں بیٹھتے اور کوئی موقعہ کلام کا آتا تو ہمیشہ قرآن کریم کے حقائق و معارف اور دشمنانِ اسلام کی تردید پر گفتگو ہوتی رہتی۔واقعات حاضرہ پر بھی کبھی کبھی سلسلہ گفتگو شروع ہو جاتا۔غرض حالات وقت کے لحاظ سے بھی باتیں ہوا کرتی تھیں اور بعض وقت ایسی بات بھی ہو جاتی جو تھوڑی دیر کے لئے حاضرین میں کسی لطیفہ کا رنگ پیدا کر دیتی تھی۔مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ آپ کی مجلس میں کوئی ایسا مزاح ہوا ہو جو اخلاقی حیثیت سے گرا ہوا سمجھا جاوے۔معمولات سفر آپ کو سیر و سیاحت کا بطور تفریح کے کبھی شوق اور عادت نہ تھی اور کوئی سفر محض اس نیت اور خیال سے آپ نے نہیں کیا۔زمانہ بعثت سے پہلے آپ کو بعض مقدمات کی پیروی کے لئے اپنے والد صاحب مرحوم و مغفور کی اطاعت کے لئے جانا پڑتا تھا اور یہ سفر بٹالہ، گورداسپور، ڈلہوزی اور لاہور تک محدود تھے۔اسی زمانہ میں آپ نے سیالکوٹ اور جموں کے دوسفر بغرض ملازمت کئے۔ہاں اس حصہ عمر میں بعض صلحا کے پاس بھی آپ جایا کرتے تھے۔جس کا ذکر میں پہلی جلد ( یعنی حیات احمد جلد اوّل ) میں کر چکا ہوں۔بعثت کے بعد آپ کے سفروں کی غرض و غایت صرف اعلائے کلمتہ الاسلام اور تبلیغ دین قویم تھی اور اسی میں ان سفروں کو بھی میں شامل کرتا ہوں جو اس حصہ زندگی میں آپ کو ان مقدمات کی پیروی کے لئے کرنے پڑے جو اسلام کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے آپ پر یا آپ کی جماعت کے بعض افراد پر کئے۔یہ سفر گورداسپور، بٹالہ، دھار یوال، پٹھان کوٹ، جہلم، ملتان تک بغرض پیروی مقدمات اور امرتسر، جنڈیالہ، لاہور، جالندھر، کپورتھلہ ، پٹیالہ، سنور علی گڑھ ، انبالہ، فیروز پور، لودہانہ ، دہلی تک بغرض تبلیغ و دعوت حق کئے۔ان سفروں کی تفاصیل کے لئے یہ مقام نہیں بلکہ اس کتاب میں دوسری جگہ ہے۔یہاں صرف آپ کے معمولات سفر کا بیان مقصود ہے۔ان سفروں میں جو آپ نے بعثت سے پہلے زمانہ میں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب قبلہ مرحوم و مغفور کی اطاعت پیروی کا نمونہ دکھانے کے لئے کئے آپ کے معمولات بہت مختصر تھے۔کسی