سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 74
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۷۴ حصّہ اوّل نے آپ سے عرض کیا کہ آپ جب سیر کو تشریف لے جاتے ہیں آپ کو گردوغبار کے اڑنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے آپ کا چہرہ اور کپڑے سب گرد آلود ہو جاتے ہیں آپ ان لوگوں کو منع کر دیں کہ ساتھ نہ چلا کریں ایک دو آدمی ہمراہ لے جایا کریں۔آپ نے فرمایا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں بلکہ بہت بڑی خوشی ہے میں ان کو اس بات سے روک نہیں سکتا یہ خدا کا فعل ہے خدا نے ہمیں یہی فرمایا ہے وَلَا تَسْلَمُ مِّنَ النَّاسِ یعنی لوگوں کی ملاقات سے ہرگز نہ تھکنا“۔جب آپ واپس ہوتے تھے تو اکثر لوگ کوشش کرتے کہ ان کو یہ سعادت نصیب ہو کہ وہ اپنے رو مال یا پگڑی سے اس گردوغبار کو صاف کریں۔سیر کے لئے آپ عموماً بسراواں کی طرف یا بوٹر کی طرف جاتے تھے۔بہت شاذ ننگل کی طرف اور بٹالہ کی طرف جاتے تھے۔ابتدائی زمانہ میں عام طور پر بوٹر کی طرف جایا کرتے تھے اور شام کو بھی تشریف لے جاتے تھے۔مطالعہ کتب کی عادت شروع ہی سے آپ کو مطالعہ کتب کا شوق تھا چونکہ آپ کا خاندان ہمیشہ سے ایک علم دوست خاندان تھا ایک بہت بڑا کتب خانہ بھی آپ کے ہاں تھا جس میں ہر قسم کی کتا بیں موجود تھیں۔آپ اکثر گوشہ تنہائی میں رہتے اور مطالعہ کتب میں مصروف رہتے۔آپ کی عادت شریف میں یہ بات داخل تھی کہ جب آپ کمرہ کے اندر ہوتے تو ہمیشہ دروازہ بند کر کے زنجیر لگا دیتے۔آپ کو مذہبی اور دینی کتب کے مطالعہ کا شوق تھا اور سب سے زیادہ قرآن شریف ہی کو آپ پڑھتے تھے۔مختلف مذاہب کی کتابوں کو بھی پڑھتے تاکہ ان کی حقیقت سے واقف ہوں اور اسلام کی حقیقت اور برتری جملہ ادیان پر ثابت کرسکیں۔بعثت کے بعد چونکہ آپ کی مصروفیت بہت بڑھ گئی تھی اور سلسلہ کے انتظام اور تالیف و تصنیف کے کاموں سے فرصت بہت ہی کم ملتی تھی اس لئے یہ مطالعہ بھی ضرور تا کم ہو گیا۔اور ابتدائی زمانہ کے