سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 906 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 906

بعداے رئیس روما! میں آپ کو اسلام کی ہدایت کی طرف بلاتا ہوں۔مسلمان ہوکر خدا کی سلامتی کو قبول کیجئے کہ اب یہی صرف نجات کا رستہ ہے۔اسلام لائیے خدا تعالیٰ آپ کو اس کا دوہرا اجر دے گا لیکن اگر آپ نے روگردانی کی تو یا درکھیئے کہ آپ کی رعایا کا گناہ بھی آپ کی گردن پر ہوگا اور اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف تو آجاؤ جو تمہارے اور ہمارے درمیان مشترک ہے یعنی ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی صورت میں خدا کا کوئی شریک نہ ٹھہرا ئیں اور خدا کو چھوڑ کر اپنے میں سے کسی کو اپنا آقا اور حاجت روانہ گردا نہیں پھر اگر ان لوگوں نے روگردانی کی تو ان سے کہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو بہر حال خدائے واحد کے دامن کے ساتھ وابستہ اور اس کے فرمانبردار بندے ہیں۔) ابوسفیان روایت کرتا ہے کہ جب یہ گفتگو اور اس خط کا پڑھا جا ناختم ہوا تو دربار میں ہر طرف سے رومی رئیسوں کی آواز میں بلند ہونی شروع ہوئیں اور آپس کا کلام اونچا اور خلط ملط ہونے لگا اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ وہ کیا کہ رہے ہیں۔اس وقت ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم باہر چلے جائیں اور جب میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ باہر آیا اور مجھے ان کے ساتھ علیحدگی میں بات کرنے کا موقع ملا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ محمد کا ستارہ تو بہت بلند ہوتا نظر آتا ہے کیونکہ روما کی حکومت کا بادشاہ اس سے خوف کھا رہا ہے۔اس کے بعد میں ہمیشہ اپنے آپ کو نیچا اور ہیٹا محسوس کرتا رہا۔اور میرا دل اس یقین سے پر تھا کہ محمد اب غالب ہوکر رہے گا۔حتی کہ میرے دل میں اسلام کی صداقت نے رستہ پا لیا حالانکہ میں اس سے پہلے اسے پسند نہیں کرتا تھا۔اسی سے ملتی جلتی روایت بخاری باب كَيْفَ كَانَ بَدأُ الْوَحِی میں بھی آتی ہے اور طبری اور ابن اسحاق اور دوسرے سب مؤرخوں کی روایتیں بھی خفیف لفظی فرق کے ساتھ اس کی مؤید ہیں اور یکجائی بیان کے لئے فتح الباری اور تاریخ خمیس اور زرقانی کا کوئی جواب نہیں۔گواس موقع پر اپنے معزز درباریوں اور خصوصاً مذہبی لیڈروں کی مخالفت کی وجہ سے ہرقل خائف ہو کر خاموش ہو گیا، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس کی طبیعت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خط اور اس سے قبل اور بعد کے حالات کا گہرا اثر ہو چکا تھا کیونکہ جب وہ ایلیا سے لوٹ کر دوبارہ حمص کی طرف گیا اور اس عرصہ میں اس کو رومیہ کے عالم کا جواب بھی موصول ہو چکا تھا جس میں اس نے ہر قل کی رائے کی تصدیق ل اریس (جس کی جمع اریسیین ہے) کے معنی کا شتکار اور زمیندار کے ہیں اور اس جگہ اس سے رعایا مراد ہے بخاری کتاب الجہاد باب دعاء النبی الی الاسلام