سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 905
تو کوئی شخص ( خواہ کسی اور وجہ سے مرتد ہو جائے تو ہو جائے مگر اسے برا سمجھ کر پیچھے نہیں ہٹتا۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا کبھی یہ شخص بد عہدی کرتا ہے۔اور تم نے کہا کہ نہیں۔اور خدا کے رسولوں کا یہی مقام ہوتا ہے کہ وہ کبھی بدعہدی نہیں کرتے۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا اس کے اور تمہارے درمیان کبھی کوئی جنگ ہوئی ہے اور تم نے اس کا جواب دیا کہ ہاں ہوئی ہے اور یہ کہ کبھی لڑائی میں اسے غلبہ ہو جاتا ہے اور کبھی ہمیں ہو جاتا ہے۔اور یہی خدا کے رسولوں کا حال ہوتا ہے کہ ان کی جماعتوں پر بھی کبھی کبھی تکلیفیں آتی رہتی ہیں مگر انجام بہر حال ان کے حق میں ہوتا ہے اور آخر کا روہی جیتے ہیں۔پھر میں نے تم سے پوچھا تھا کہ وہ تمہیں کیا تعلیم دیتا ہے اور تم نے بتایا کہ وہ کہتا ہے کہ خدا کو ایک مانو۔شرک نہ کرو، نماز پڑھو، صدقہ دو، بری باتوں سے پر ہیز کرو، اپنے عہدوں کو پورا کرو اور امانتوں میں خیانت نہ کرو اور یہی ایک نبی کے اوصاف ہوا کرتے ہیں۔اس کے بعد قیصر نے کہا۔میں جانتا تھا کہ عنقریب ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے لیکن اے عرب کے لوگو! میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوگا۔اور اگر وہ باتیں جو تم نے مجھ سے بیان کی ہیں درست ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت دور نہیں کہ یہ شخص اس زمین پر جو اس وقت میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے ضرور قابض ہو کر رہے گا۔اور اگر مجھے توفیق ملے تو میں اس کی ملاقات کے لئے پہنچوں اور اگر میں اس کے پاس پہنچوں تو اس کے قدموں کو دھو کر راحت پاؤں۔ابوسفیان کہتا ہے کہ اس کے بعد قیصر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے دربار میں پڑھے جانے کا حکم دیا۔اس خط میں یہ عبارت لکھی تھی۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرُسُولِهِ إِلَى هِرْقَلَ عَظِيمٍ الرُّومِ۔سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى اَمَّا بَعْدُ فَإِنِّى اَدْعُوكَ بِدَعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمُ تُسْلَمُ وَأَسْلِمُ يُوتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ۔فَإِن تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْإِرْيُسِيِّينَ۔وَيَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُوْنَ (ترجمہ: میں اللہ کے نام کے ساتھ اس خط کو شروع کرتا ہوں جو بے مانگے رحم کرنے والا اور اعمال کا بہترین بدلہ دینے والا ہے۔یہ خط محمد خدا کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے روما کے رئیس ہرقل کے نام ہے۔سلامتی ہو اس شخص پر جو ہدایت کو قبول کرتا ہے۔اس کے