سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 907 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 907

9+2 کی تھی کہ اس زمانہ میں ایک نبی کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے تو ہر قل نے ایک دفعہ پھر مملکت روم کے بڑے بڑے اہل الرائے لوگوں کو دعوت دے کر بلایا اور اپنے حمص کے شاہی محل میں انہیں جمع کر کے راز داری کے خیال سے دربار کے تمام دروازے بند کر وا دیئے اور پھر رؤساء روما کو مخاطب کر کے ان سے کہا کہ اے میری مملکت کے سردارو! اگر تمہیں اپنی فلاح اور بہبودی منظور ہے اور تم تباہی سے بیچ کر ترقی کا رستہ دیکھنا چاہتے ہو اور اپنے ملک کو ہلاکت سے بچانے کے خواہاں ہو تو میرا مشورہ یہ ہے کہ اس نبی کوقبول کر لو جو عرب کی سرزمین میں مبعوث ہوا ہے۔قیصر کی یہ بات سن کر اس کے درباری اس طرح بپھرے جس طرح کہ جنگل میں گورخر بپھرتا ہے۔اور قیصر کی مجلس سے بھاگ کر دروازوں سے باہر نکل جانا چاہا لیکن قیصر کی دور اندیشی نے پہلے سے دروازے بند کر وار کھے تھے اس نے فوراً ان متکبر رئیسوں اور پادریوں کو واپس بلایا اور ان سے محبت کے انداز میں کہا کہ میں تو صرف تمہارے دین کا امتحان لیتا تھا اور شکر ہے کہ تم پختہ نکلے۔جب قیصر کے درباریوں نے اپنے بادشاہ میں یہ تبدیلی دیکھی تو وہ خوش ہو گئے اور خوشی کے جوش میں اس کے سامنے سجدہ میں جا گرے۔پس یہ وہ انجام تھا جس کو ہر قل شہنشاہ روم اپنی زندگی کے اس بھاری امتحان میں پہنچا۔یہ بات بھی یا درکھنی چاہئے کہ ہر قل نے ایلیا کے دربار میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھا تھا تو دراصل یہ دوسری بار کا پڑھنا تھا۔ورنہ اس سے پہلے وہ ایک پرائیوٹ مجلس میں اس خط کو اپنے طور پر پڑھ چکا تھا۔اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ جب پہلی دفعہ قیصر کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملا تو اس نے اپنی پرائیوٹ مجلس میں دحیہ کو بلایا اور اپنے چند مصاحبوں اور عزیزوں کے سامنے اس خط کو پڑھنا چاہا۔اس وقت غالباً یہ خط پہلے ہر قل کے بھتیجے کے ہاتھ میں گیا اور اس نے ہر قل کے سامنے پیش کرنے سے قبل اس خط کو خود کھول کر دیکھنا چاہا اور خط دیکھتے ہی چلا اٹھا کہ یہ خط تو ہرگز قبول کرنے کے قابل نہیں کیونکہ اس میں شروع میں آپ کے نام کی بجائے لکھنے والے نے اپنا نام لکھا ہے۔جو آپ کی ہتک بخاری جلد ا باب کیف کان بداء الوحی و زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۳۹ : فتح الباری و زرقانی جلد ۳ صفحه ۳۳۹ : ایک روایت میں بھائی کا نام آتا ہے۔واللہ اعلم غالباً اس وقت درباروں میں یہ دستور ہوگا کہ رئیس کو مخاطب کرتے ہوئے از طرف فلاں بنام فلاں“ کی بجائے ” بنام فلاں از طرف فلاں“ کے الفاظ لکھتے ہوں گے۔مگر جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے از طرف محمد رسول اللہ بنام ہرقل عظیم الروم کے الفاظ لکھے تھے۔