سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 776
قَدْ اَذْهَبَ اللهُ عَنْكُمُ عُمِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخُرَهَا بِالْآبَاءِ - إِنَّمَا هُوَ مُؤْمِنْ تَقِيٌّ وَفَاجِ شَقِيٌّ وَالنَّاسُ بَنُو ادَمَ وَادَمَ مِنْ تُرَابٍ یعنی ”اے مسلمانو! خدا تعالیٰ نے ایمان کے ذریعہ تم میں سے زمانہ جاہلیت کے بیجا کبر و غرور اور آبا و اجداد کی وجہ سے بے جا تفاخر کرنے کی مرض کو دور کر دیا ہے کیونکہ اسلامی پیمانہ صرف یہ ہے کہ ایک شخص خدا کو ماننے والا اور نیک عمل بجالانے والا ہوتا ہے اور دوسرا بد عمل ہوتا ہے اور اچھے اوصاف سے محروم اور یاد رکھو کہ سب لوگ آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی سے پیدا ہوا تھا۔“ پھر فرماتے ہیں: النَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِى الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا - یعنی دنیا میں لوگ بھی معدنیات کی طرح ہیں۔جو ایک ہی قسم کے عناصر ہوتے ہوئے اور ایک ہی قسم کی مٹی کے نیچے دبے ہوئے آہستہ آہستہ مختلف رنگ اور مختلف اوصاف اختیار کر لیتے ہیں۔مگر سن لو کہ ترقی اور بڑائی کی جو معروف علامتیں اسلام سے پہلے سمجھی جاتی تھیں۔( یعنی عقل و دانش، سخاوت و شجاعت، طاقت واثر وغیرہ ) وہی اب بھی قائم ہیں اور جو لوگ ان اوصاف کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں بڑے سمجھے جاتے تھے وہ اب اسلام میں بھی بڑے سمجھے جائیں گے ( کیونکہ اسلام کسی شخص کی حاصل شدہ بڑائی کو چھینتا نہیں ) مگر شرط یہ ہے کہ وہ علم دین اور ذاتی نیکی اختیار کر لیں۔“ اوپر کے حوالوں سے جو اسلامی مساوات کے نظریہ کے متعلق اصولی رنگ رکھتے ہیں۔مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں: -1 -۲ یہ کہ اپنی اصل کے لحاظ سے سب لوگ ایک باپ کی نسل اور ایک درخت کی شاخیں ہیں اور کسی فرد کو دوسرے فرد پر اور کسی قوم کو دوسری قوم پر محض نسلی فرق کی بنا پر کوئی امتیاز حاصل نہیں۔یہ کہ مسلمان ایک نبی کی امت اور ایک ایمان کے حامل ہونے کی وجہ سے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔یہ کہ زمین کے اندر کی معدنیات کی طرح مختلف قومیں اور مختلف افراد ایک دوسرے سے مختلف اوصاف اختیار کر سکتے ہیں اور کر لیتے ہیں مگر ان کی وجہ سے کسی فرد کو دوسرے فرد پر اور کسی قوم ترمذی ابواب المناقب : بخاری ابواب المناقب