سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 775
۷۷۵ تم میں سے ایک فریق دوسرے فریق پر ہنسی اڑائے اور اسے ذلیل خیال کرے کیونکہ (جب سب لوگ اپنی اصل کے لحاظ سے برابر ہیں اور سب کے لئے ترقی کے رستے یکساں کھلے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ فریق جس پر تم آج ہنسی اڑاتے ہو کل کو تم سے آگے نکل جائے یا ہو سکتا ہے کہ وہ اب بھی اپنے بعض اوصاف حمیدہ کے لحاظ سے تم سے بہتر ہو۔۔۔اے لوگو! اچھی طرح سن لو کہ ہم نے تم سب کو مرد و عورت کے جوڑے سے پیدا کیا ہے اور بے شک ہم نے تم میں قوموں اور قبیلوں کی تقسیم قائم کی ہے مگر یاد رکھو کہ یہ تقسیم اس غرض سے ہرگز نہیں کہ تم ایک دوسرے کے مقابل پر تفاخر اور بڑائی سے کام لو بلکہ یہ تقسیم صرف اس غرض سے ہے کہ تمہارے درمیان آپس میں شناخت اور تعارف کا ذریعہ قائم رہے ورنہ خدا کے نزدیک تم میں سے بڑا اور معزز وہی ہے جو ذاتی طور پر زیادہ اوصاف حمیدہ کا مالک اور زیادہ متقی اور زیادہ پر ہیز گار ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ قانون جو وہ تمہارے سامنے بیان کر رہا ہے بڑی دوراندیشی اور بڑی حکمت پر مبنی ہے کیونکہ وہ علیم وخبیر خدا ہے۔“ اسی طرح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : يأَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنْ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ۔اَلأَلَا فَضْلَ لِعَرَبِي عَلَى عَجَمِي وَلَا لِعَجَمِيّ عَلى عَرَبِيّ۔وَلَا لَأَحْمَرَ عَلَى اَسْوَدَ وَلَا لَاسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوىٰ۔اَبَلَّغْتُ؟ قَالُوا قَدْ بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی جو خطبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر حج کے درمیانی دن میں منی کے مقام میں دیا اس میں آپ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا ”اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک تھا۔پس ہوشیار ہو کر سن لو کہ عربوں کو عجمیوں پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ عجمیوں کو عربوں پر کوئی فضیلت ہے۔اسی طرح سرخ وسفید رنگ والے لوگوں کو کالے رنگ والے لوگوں پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کالے لوگوں کو گوروں پر کوئی فضیلت ہے۔ہاں جو بھی ان میں سے اپنی ذاتی نیکی سے آگے نکل جائے وہی افضل ہے۔لوگو! بتاؤ کیا میں نے تمہیں خدا کا پیغام پہنچا دیا ہے؟ سب نے عرض کیا۔بے شک خدا کے رسول نے اپنی رسالت پہنچادی ہے۔“ پھر فرماتے ہیں: ل : مسند احمد بن حنبل