سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 777
222 کو دوسری قوم پر بڑائی اور فخر کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔یہ کہ اسلام سے قبل جو اوصاف حمیدہ قومی یا انفرادی بڑائی کی بنیا د سمجھے جاتے تھے مثلاً عقل و دانش، سخاوت و شجاعت، طاقت واثر وغیرہ وہ اسلام میں بھی بدستور قائم ہیں۔مگر اسلام نے ان پر اس شرط کا اضافہ کر دیا ہے کہ عام معروف اوصاف کے علاوہ دینداری کا وصف پایا جانا بھی ضروری ہے۔یہ کہ اسلام نے سب سے بڑا وصف دینداری اور تقوی اللہ کو قرار دیا ہے کیونکہ یہ وصف خدائے اسلام کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور جو شخص اس وصف میں ممتاز ہوگا وہی دوسروں پر ممتاز سمجھا جائے گا۔عام تعلقات میں مراتب کو ملحوظ رکھنے کی تلقین اسلامی مساوات کے متعلق یہ بنیادی نظریہ بیان کرنے کے بعد اسلام اس سوال کو لیتا ہے کہ جب اصل کے لحاظ سے ایک ہونے کے باوجود مختلف لوگوں کے حالات اور اوصاف مختلف ہو سکتے ہیں تو اس ناگزیر اختلاف کی موجودگی میں مختلف مدارج کے لوگوں کے متعلق عام تمدنی معاملات میں کیا رویہ ہونا چاہئے۔سو اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَهُمْ یعنی ”اے مسلمانو! تمہارے لئے ضروری ہے کہ آپس کے معاملات میں لوگوں کے معروف مرتبوں کا خیال رکھا کرو اور ان کے حالات اور درجہ کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کیا کرو۔“ اس حدیث کا منشا یہ ہے کہ جو لوگ کسی دینی یا دنیوی بنا پر کوئی رتبہ یا بڑائی حاصل کر لیں تو عام معاملات میں ان کے مرتبہ کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ واجبی احترام سے پیش آنا اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بات ہے کہ جب یہودی قبیلہ بنوقریظہ کے فیصلہ کے لئے سعد بن معاذ انصاری قبیلہ اوس کے رئیس موقع پر تشریف لے گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آتا دیکھ کر صحابہ سے فرمایا: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ - یعنی اپنے ریس کے اکرام اور احترام کے لئے کھڑے ہو جاؤ“ لے ابوداؤد کتاب الادب ے : بخاری ابواب المناقب