سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 774 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 774

۷۷۴ ہے اور اس زمانہ کی سرمایہ داری اور اشتراکیت انہی فتنوں سے پیدا شدہ انتہا ئیں ہیں جن میں سے ایک میں افراط کی صورت پیدا ہوگئی ہے اور دوسری میں تفریط کی۔اسلامی مساوات کا اصولی نظریہ اسلامی مساوات کے فلسفہ کا نچوڑ اور خلاصہ چند قرآنی آیات اور چند احادیث نبوی میں آجاتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ یعنی ”اے لوگو! تم آپس کے معاملات میں خدا کا تقویٰ اختیار کیا کرو اور اسی سے ڈرتے رہو جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اس ایک جان سے اس نے اس کا جوڑا بنایا اور پھر اس جوڑے سے اس نے دنیا میں کثیر التعداد مرد اور عورت پھیلا دئے۔“ اس قرآنی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس ابدی حقیقت کی طرف توجہ دلا کر کہ وہ سب ایک ہی باپ کی اولا دا ور ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں دنیا میں صحیح مساوات کی بنیا د قائم کر دی ہے اور اس اصول کی طرف توجہ دلائی ہے کہ خواہ بعد کے حالات کے نتیجے میں مختلف انسانوں اور مختلف قوموں اور مختلف طبقات میں کتنا ہی فرق پیدا ہو جائے انہیں آپس کے معاملات میں اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ بہر حال اپنی اصل کے لحاظ سے وہ ایک ہی باپ کی نسل ہیں۔کیا اگر ایک باپ کے بیٹوں میں سے بعض بچے دوسروں کی نسبت زیادہ دولت یا زیادہ طاقت یا زیادہ اثر ورسوخ حاصل کر لیں اور دوسرے ان باتوں میں نسبتاً پس ماندہ رہیں تو وہ اس فرق کی وجہ سے بھائی بھائی نہیں رہتے اور کوئی غیر چیز بن جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں ہر گز نہیں۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمُ مِّنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ۔۔۔يَا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْتُكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقُكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيْمٌ خَيْرٌ یعنی سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں سوائے مسلمانو! ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ : سورة النساء:۲ ۲ ، ۳ : سورة الحجرات : ۱۲:۱۱ ۴ : سورة الحجرات :۱۴