سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 765 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 765

۷۶۵ ہمیں زیادہ تفصیل کے ساتھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ اس قسم کے اعتراضات زیادہ سمجھ دار طبقہ کی طرف سے نہیں ہوتے بلکہ عموماً کم علم اور کم فہم لوگوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ گزشتہ انبیاء اور صلحاء کے حالات سے واقف نہیں بلکہ موقع اور محل کو سمجھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے اور نیک صرف اسی بات کو سمجھتے ہیں کہ انسان اول تو دنیا کی کسی بات میں حصہ نہ لے اور اگر کبھی بصورت مجبوری حصہ لینا پڑے تو اس کے لئے کوئی مادی تدبیر اختیار نہ کرے اور اگر کبھی کوئی تد بیراختیار کرنی پڑے تو وہ نہایت سادہ اور بھونڈے طریق پر کی جائے اور ہر صورت میں ہر بات برملا ہو اور کبھی کسی بات میں اختفا اور راز داری کا طریق اختیار نہ کیا جائے۔ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اگر نیکی اسی کا نام ہے تو بے شک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض افعال اعتراض کا نشانہ بنتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نیکی کی یہی تعریف ہے اور کیا اس تعریف کی رو سے دنیا کا کوئی نبی اور کوئی مصلح ایسا ہے جو ایسے اعتراضوں سے بچ سکتا ہے؟ دور نہ جاؤ حضرت مسیح ناصری کو ہی لے لو جنہیں اس زمانہ میں یورپ و امریکہ کی ترقی یافتہ اقوام عرش الوہیت پر بٹھائے ہوئے ہیں اور ہر نیک کام کو ان کے اقوال وافعال کے پیمانے سے ناپتی ہیں مگر کیا یہ درست نہیں کہ جب ان کے خلاف یہ الزام لگایا گیا کہ وہ حکومت وقت کے خلاف تعلیم دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کو خراج نہ دو اور اس طرح انہیں حکومت کی نظروں میں معتوب کرنا چاہا تو انہوں نے صاف اور سیدھا جواب دینے کی بجائے ایک رائج الوقت سکہ منگایا اور اس پر قیصر روما کی تصویر دیکھ کر کہا کہ یہ تو قیصر کی تصویر ہے۔تو پھر جو قیصر کی چیز ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کی چیز ہے وہ خدا کو دو۔اور اس طرح ایک غیر حقیقی سا جواب دے کر بات کو ٹال دیا۔اسی طرح ہندوؤں کی مذہبی کتب میں ذکر آتا ہے کہ شری کرشن جی مہاراج ( جو ہندوؤں کے سب سے بڑے اوتار گزرے ہیں ) اور ان کے بعض مقدس ساتھی ایک راجہ کو قتل کرنے کی غرض سے بھیس بدل کر اس کے قلعہ میں داخل ہوئے اور ایک انتقامی غرض کے حصول کے لئے اپنی اصل شناخت کو چھپایا اور لوگوں کے خیال کو غلط رستے پر ڈال دیا ہے اسی طرح سکھوں کی کتب میں یہ ذکر آتا ہے کہ جب شاہی فوج نے گورو گوبند جی کا محاصرہ کر لیا جو سکھوں کے ایک نہایت نامور اور ممتاز گور وگزرے ہیں تو انہوں نے اپنے ایک ہمشکل شخص کو اپنا لباس پہنا کر اسے اپنی جگہ بٹھا دیا اور خود اپنے : لوقا باب ۲۰ آیت ۱۹ تا ۲۶ و متی باب ۲۲ آیت ۱۵ تا ۲۲ و مرقس باب ۱۲ آیت ۱۳ تا ۱۷ یوگیشور کرشن مصنفہ پنڈت جمو پتی صفحه ۸۶ و ۸۷