سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 764
۷۶۴ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص اپنے ایک نہایت دل پسند کام میں منہمک ہو اور پھر یکلخت کوئی دوسرا شخص اس کے کام میں مخل ہو کر اس کی توجہ کومنتشر کر دے۔مگر کچھ وقت کے بعد خدائی فضل کے ماتحت یہ روک دور ہو جائے اور وہ شخص پھر اپنے محبوب مشغلہ میں مصروف ہونے کا موقع پالے۔ایسے موقع پر جو جذ بات اس شخص کے دل میں اٹھیں گے وہی اس دعا میں مخفی ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہم اس سفر کی عارضی رخنہ اندازی سے آزاد ہو کر پھر اس کیفیت کی طرف واپس آرہے ہیں کہ جس میں ہم اپنے خدا کی یاد میں وقت گزار سکیں گے اور اس کی حمد کے گیت گانے کا موقع پائیں گے۔ہاں وہی خدا جو اس سے پہلے بھی متعدد موقعوں پر ہمیں دشمن کے فتنہ سے محفوظ کر کے امن عطا کرتا رہا ہے۔یہ جذبہ کیسا مبارک اور کیسا دلکش اور کیسا پر امن ہے ! مگر افسوس کہ پھر بھی بعض دشمنان اسلام اعتراض سے باز نہیں آتے اور یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی اصل غرض جارحانہ فوج کشی اور دنیا طلبی تھی۔ببین تفاوت ره از کجاست تا بکجا غزوہ بنو لحیان کی تاریخ کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے۔ابن سعد نے اسے ربیع الاول ۶ ھ میں بیان کیا ہے مگر ابن اسحاق اور طبری نے تصریح کی ہے کہ وہ جمادی الاولی ۶ ھ میں ہوا تھا۔میں نے اس جگہ ابن اسحاق کی پیروی کی ہے۔واللہ اعلم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو ریہ کا الزام غزوہ بنولحیان کے ذکر میں ہم نے یہ بیان کیا ہے کہ پردہ رکھنے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شروع میں شمال کی طرف تشریف لے گئے تھے اور بعد میں مدینہ سے کچھ فاصلہ پر جا کر جنوب کی طرف گھوم گئے۔اسی قسم کے واقعات بعض دوسرے غزوات کے متعلق بھی بیان ہوئے ہیں کہ دشمن سے اپنی حرکات و سکنات کو مخفی رکھنے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں سفر کا مقصد ظاہر نہیں فرمایا اور مدینہ سے نکلتے ہوئے اصل جہت کو چھوڑ کر دوسری جہت کی طرف تشریف لے گئے مگر کچھ فاصلہ پر جا کر پھر اصل جہت کی طرف گھوم گئے وغیر ذالک۔اس قسم کے واقعات کی بنا پر جو عربی محاورہ کے مطابق توریة کہلاتے ہیں بعض کو نہ اندیش لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ نعوذ باللہ یہ افعال چالا کی اور دھو کے میں داخل ہیں جو ایک نبی کی شان سے بعید ہے۔اس اعتراض کے جواب میں یه نام لحیان اور یحیان دونوں طرح آتا ہے۔