سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 766
بعض ساتھیوں کے ساتھ مسلمان حاجیوں کا لباس پہن کر حملہ آوروں کی آنکھوں میں خاک ڈالتے ہوئے نکل گئے۔اگر یہ مذہبی پیشوا با وجود اپنے اس قسم کے افعال کے پاک اور مقدس شمار ہو سکتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک بالکل جائز جنگی تدبیر اختیار کرنے کی وجہ سے کس طرح اعتراض ہو سکتا ہے؟ حق یہ ہے کہ اس زمانہ میں اکثر لوگوں کے دلوں میں نیکی اور صداقت کا ایک نہایت ہی غلط مفہوم قائم ہو گیا ہے حالانکہ حقیقی نیکی یہ نہیں کہ انسان عقل و خرد سے عاری ہوکر بے وقوفی کی حرکات کرے اور خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی کا بیج بو لے بلکہ نیکی یہ ہے کہ انسان اگر ایک طرف جھوٹ اور غداری سے بچے اور کوئی کام صداقت اور دیانتداری کے خلاف نہ کرے تو دوسری طرف پوری پوری ہوشیاری کے ساتھ اور ہر پہلو سے چوکس رہتے ہوئے اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے دینی اور دنیوی ترقیات کے راستے کھولے اگر ایک شخص ہوشیار اور چوکس ہے مگر جھوٹ اور غداری سے پر ہیز نہیں کرتا اور خیانت کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ یقیناً نیک کہلانے کا مستحق نہیں۔اسی طرح اگر ایک شخص صداقت اور وفاداری کو تو اختیار کرتا ہے مگر اپنے کاموں میں عقل وخرد اور ہوشیاری اور بیدار مغزی نہیں دکھاتا تو اسے بھی ہرگز اعلیٰ درجہ کا نیک نہیں سمجھا جا سکتا۔کیونکہ نیکی کی حقیقی تعریف یہ ہے کہ انسان کا خدا کے ساتھ تعلق ہو اور اگر خدا کا تعلق جو ساری دانائیوں کا سر چشمہ ہے انسان کے اندر عقل و خرد پیدا نہیں کر سکتا تو اور کون سی چیز پیدا کرے گی اور یقیناً اس صورت میں یہ خدا کا حقیقی تعلق نہیں سمجھا جا سکتا۔اسی لئے اسلام نے نیکی کی تعریف میں کسی خاص فعل کو داخل نہیں کیا بلکہ اصل نیکی دل کے تقویٰ کو قرار دیا ہے اور صرف اُسی فعل کو نیک شمار کیا ہے جو دل کے تقویٰ کے ساتھ خدا کی رضا اور مخلوق کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات پیش آمدہ کے مطابق اختیار کیا جائے۔مثلاً اگر دوستوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا سوال ہو تو اس کے مناسب حال اعلیٰ اخلاق دکھائے جائیں۔دشمنوں کے ساتھ معاملہ کرنے کا سوال ہو تو اس کے مطابق اچھے اخلاق ظاہر کئے جائیں۔امن کا ماحول ہو تو اس کے مطابق بہتر سے بہتر اخلاق کا اظہار کیا جائے اور جنگ کا موقع ہو تو اس کے مناسب حال اعلیٰ اخلاق دکھائے جائیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور مخلوق خدا کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے جو بھی اعلیٰ اور کامل اخلاق دل کے تقویٰ کے ساتھ اختیار کئے جائیں وہی نیکی ہے اور اسلام نے ہر موقع اور ہر ماحول کے مناسب حال علیحدہ علیحدہ اخلاق کی تعین فرما دی ہے اور یہی وہ صحیح تعریف ہے جو نیکی کی قرار دی جاسکتی ہے اور اسلام کے لئے یہ جائے فخر ہے کہ اس کے مقدس بانی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دنیا ا پنتھ پر کاش مصنفہ گیانی گیان سنگھ صفحہ ۲۰۷