سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 763
۷۶۳ اس مقام پر پہنچے جہاں آپ کے صحابہ شہید کئے گئے تھے تو آپ پر سخت رقت طاری ہوگئی اور آپ نے نہایت الحاح کے ساتھ ان شہداء کے لئے دعا مانگی یا پھر آپ مقام عسفان کی طرف آگے بڑھے جواس جگہ سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر مکہ کی جانب واقع تھا اور اپنے اصحاب کی متفرق پارٹیاں ادھر ادھر روانہ فرمائیں جن میں سے ایک پارٹی کے امیر حضرت ابو بکر بھی تھے جو مکہ کی سمت میں بھیجی گئی تھی مگر ان میں سے کسی پارٹی کو بھی لڑائی پیش نہیں آئی اور چند دن کی غیر حاضری کے بعد آپ مدینہ میں واپس تشریف لے آئے۔سفر سے واپسی کی دعا واپسی سفر کے دوران میں آپ نے ایک دعا فرمائی جسے بعد میں مسلمان اپنے اہم سفروں سے واپسی کے موقع پر عموماً پڑھا کرتے تھے۔وہ دعا یہ ہے: آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ - یعنی ” ہم لوگ اپنے خدا کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اسی کی طرف جھکنے والے۔اسی کی عبادت کرنے والے۔اسی کے سامنے گرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کے گیت گانے والے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اپنے بعد کے سفروں میں عموماً یہ دعا فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات اس کے ساتھ یہ الفاظ زیادہ فرماتے تھے کہ: صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَحَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ یعنی ”ہمارے خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور دشمن کے ،، لشکروں کو خود اپنے دم سے پسپا کر دیا “۔یہ دعا جوغز وہ بنولحیان کے تعلق میں اہل سیر نے بیان کی ہے اور محدثین نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اپنے اندر ایک خاص کیفیت کی حامل ہے اور اس کے مطالعہ سے ان جذبات کے اندازہ کرنے کا موقع ملتا ہے جو اس پر آشوب زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فداہ نفسی کے قلب مطہر میں موجزن تھے اور جنہیں آپ اپنے صحابہ کے اندر پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس دعا میں یہ تڑپ مخفی ہے کہ دشمن کی طرف سے جوروک مسلمانوں کی عبادت گزاری اور اسلام کی پر امن تبلیغ کے رستے میں ڈالی جارہی ہے اللہ تعالیٰ اسے دور فرمائے اور جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اس روک کو دور کیا ہے اس پر شکر گزاری کا گیت گایا گیا ہے۔ابن سعد : ابن ہشام طبری و ابن سعد سے بخاری کتاب الجہاد باب مَا يَقُولُ إِذَا رَجَعَ مِنَ الْغَزُوِوَبَابُ التَّكْبِيرِ إِذَا عَلَا شَرَفًا -