سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 762 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 762

۷۶۲ کے داماد ابوالعاص بن الربیع حضرت خدیجہ مرحومہ کے قریبی رشتہ دار یعنی حقیقی بھانجے تھے اور باوجود مشرک ہونے کے ان کا سلوک اپنی بیوی سے بہت اچھا تھا اور مسلمان ہونے کے بعد بھی میاں بیوی کے تعلقات بہت خوشگوار رہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس جہت سے ابوالعاص کی بہت تعریف فرمایا کرتے تھے کہ اس نے میری لڑکی کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے۔ابوالعاص حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں ۱۲ ہجری میں فوت ہوئے مگر ان کی زوجہ محترمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی فوت ہو گئیں۔ان کی لڑکی امامہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزیز تھی۔حضرت فاطمہ کی وفات کے بعد حضرت علی کے نکاح میں آئیں مگر اولاد سے محروم رہیں۔غز وہ بنو لحیان جمادی الا ولی ۶ ہجری مطابق ستمبر ۶۲۷ء اصحاب رجیع کا المناک واقعہ ۴ ھ کے واقعات میں بیان کیا جا چکا ہے۔اس موقع پر دس بے گناہ مسلمان جو اسلام کی پر امن تبلیغ کے لئے بھجوائے گئے تھے نہایت بے دردی اور دھو کے کے ساتھ قتل کر دئے گئے تھے اور اس سارے فتنہ کی تہ میں بنولحیان کا ہاتھ تھا جو اس زمانہ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان وادی غران میں آباد تھے۔طبعاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا سخت صدمہ تھا اور چونکہ بنو لحیان کا رویہ ابھی تک اسی طرح معاندانہ اور مفسدا نہ تھا اور ان کی طرف سے آئندہ کے لئے بھی اندیشہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کسی مزید فتنہ انگیزی کا باعث نہ بنیں اس لئے آپ نے انتظامی لحاظ سے مناسب خیال فرمایا کہ ان کی کسی قدر گوشمالی ہو جائے تا کم از کم آئندہ کے لئے مسلمان ان کے فتنوں سے محفوظ ہو جائیں اس خیال سے آپ دوسو صحابہ کی جمعیت کو ساتھ لے کر ماہ جمادی الاولی ۶ ھ میں مدینہ سے نکلے۔اور اس خیال سے کہ اس سفر کی غرض و غایت مخفی رہے تا کہ بنولحیان خبر پا کر ہوشیار نہ ہو جائیں۔آپ نے مدینہ سے نکل کر شروع شروع میں شمال کا رخ کیا اور کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد جنوب کی طرف گھوم گئے۔مگر باوجود اس احتیاط کے دشمن کسی طرح خبر پا کر ہوشیار ہو چکا تھا اور پیشتر اس کے کہ آپ وادی غران میں پہنچتے بنواھیان کے لوگ اردگرد کی پہاڑیوں میں منتشر ہو کر غائب ہو چکے تھے۔آپ نے منزل مقصود پر پہنچ کر وہاں کچھ وقت قیام فرمایا اور روایت آتی ہے کہ جب اس سفر میں آپ لے بخاری ابواب مناقب طبقات ابن سعد حالات ابوالعاص و زرقانی حالات حضرت زینب ابن ہشام وطبری حالات غزوہ بنواھیان۔ابن سعد اس نے غزوہ کی تاریخ ربیع الاول بیان کی ہے۔واللہ اعلم ابن سعد وابن ہشام ابن ہشام