سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 761
271 یہ ایک معلق قسم کی صورت تھی یعنی اگر اس عرصہ میں حضرت زینب کا دوسری جگہ نکاح ہو جا تا تو وہ جائز تھا لیکن چونکہ وہ ابھی تک آزاد تھیں اس لئے سابقہ خاوند کے مسلمان ہونے پر انہیں اس کی طرف بلا نکاح لوٹا دیا گیا۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ ایک مفقود الخبر انسان کی ہوتی ہے جس پر ایک معین عرصہ گزرنے پر اس کی بیوی دوسرے کے ساتھ شادی کرنے کے لئے آزاد ہو جاتی ہے۔لیکن اگر قبل شادی اس کا اصل خاوند آ جائے تو سابقہ نکاح ہی قائم رہتا ہے۔واللہ اعلم اس ضمن میں اس حکمت کا بیان کرنا بھی مناسب ہوگا کہ اسلام میں غیر مسلم مرد کے نکاح میں مسلمان لڑکی کا دینا یا مسلمان مرد کے نکاح میں غیر اہل کتاب کی لڑکی لینا کیوں حرام قرار دیا گیا۔سو جاننا چاہئے کہ مقدم الذکر صورت یعنی غیر مسلم مرد کے ساتھ نکاح نہ کرنے کی وجہ تو ظاہر ہے کہ ایک مسلمان لڑکی کو غیر مسلم مرد کی شادی میں دینے کے یہ معنی ہیں کہ لڑکی کے دین کو خود اپنے ہاتھ سے خطرہ میں ڈالا جاوے اور اسلام کو ترقی دینے کی بجائے اس کے تنزل کا راستہ کھولا جائے جسے اسلام کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتا۔اور غیر اہل کتاب کا فر کی لڑکی لینے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ چونکہ ایسی لڑکی اصول مذہب سے بالکل بے بہرہ ہوگی اس لئے وہ نہ صرف بچوں کی تربیت کے لحاظ سے خطر ناک ہوگی بلکہ خاوند کے ساتھ بھی اگر وہ سچا مسلمان ہے اس کا دل نہیں مل سکے گا اور خانگی زندگی حقیقی خوشی سے محروم رہے گی۔اس کے مقابل پر اہل کتاب کی لڑکی لینے کی اجازت دینے میں یہ مصلحت ہے کہ اول تو بین الاقوام تعلقات کی توسیع کا راستہ کھلا رہے دوسرے ایسی لڑکی اصول مذہب سے واقف ہونے کی وجہ سے ایک حد تک بچوں کی تربیت میں مد ہو سکتی ہے اور تیسرے یہ کہ اس کے لئے خاوند کے مشفقانہ اثر کے ماتحت اسلام کی طرف کھنچے آنے کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔واللہ اعلم مگر بایں ہمہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن وحدیث دونوں میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اہل کتاب کی لڑکی کے ساتھ شادی کرنا بھی اسلام میں ایک استثنائی رنگ رکھتا ہے جس کی صرف خاص حالات کے ماتحت خاص مصالح کے پیش نظر اجازت دی گئی ہے اور عام حالات میں بہتر یہی سمجھا گیا ہے کہ مسلمان مرد کا نکاح حتی الوسع مسلمان عورت کے ساتھ ہوا ابوالعاص کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی یہ ذکر ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ا: سورة البقرة : ۲۲۲ وسورة نور : ۳۳ و بخاری کتاب النکاح