سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 760
<Y۔اور اسی طرح ان پاک دامن عورتوں کے ساتھ بھی تمہارا نکاح جائز ہے جوان لوگوں میں سے ہیں جنہیں تم سے پہلے کوئی شریعت کی کتاب دی گئی۔“ اس آخری حکم کے ذریعہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کے درمیان نمایاں امتیاز قائم کر دیا گیا یعنی جہاں ایک مسلمان مرد کے لئے غیر مسلم اہل کتاب عورت کا نکاح جائز قرار دیا گیا وہاں ایک ایسی مشرک عورت کا نکاح جو کسی الہامی کتاب کو نہیں مانتی ہر حال میں نا جائز رکھا گیا۔اب اگر اس جگہ یہ سوال پیدا ہو کہ جب سریہ عیص جس میں ابوالعاص قید ہو کر آئے تھے صلح حدیبیہ سے پہلے ہوا تھا تو پھر یہ کس طرح ممکن ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہونے والے حکم مندرجہ سورۃ ممتحنہ کو سریہ عیص کے موقع پر چسپاں فرمایا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک سرسری نظر میں یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ اعتراض دوطریق پر حل کیا جا سکتا ہے۔اوّل اس طرح کہ بے شک سورۃ ممتحنہ والا حکم جس میں مشرک عورتوں کا نکاح ہر حال میں ناجائز قرار دیا گیا ہے بعد میں نازل ہوا مگر بہر حال سورۃ بقرہ والا حکم تو ( جس میں کم از کم آئندہ کے لئے مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح روک دیا گیا تھا) پہلے نازل ہو چکا تھا اور اغلبا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حکم پر قیاس کر کے احتیاط کا رستہ اختیار کرتے ہوئے حضرت زینب کو ہدایت فرما دی ہوگی کہ جب تک ابوالعاص مسلمان نہ ہو جائیں تم ان کے ساتھ ازدواجی تعلقات نہ رکھنا اور پھر بعد میں اس کے مطابق حکم بھی نازل ہو گیا۔دوسرے یہ بھی ممکن ہے کہ جیسا کہ بعض علماء نے لکھا ہے سر یہ عیص اور ابوالعاص کے قید ہونے کا واقعہ در اصل صلح حدیبیہ کے بعد ہوا ہو، لیکن مؤرخین نے غلطی سے اسے صلح حدیبیہ سے پہلے رکھ دیا ہو۔مگر ہمارے نزدیک مقدم الذکر تشریح زیادہ صحیح اور قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔واللہ اعلم ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ابو العاص کے کفر کی وجہ سے حضرت زینب کا نکاح فسخ سمجھا گیا تھا تو پھر ان کے مسلمان ہونے پر بلا نکاح جدید انہیں کیوں اکٹھا ہونے کی اجازت دے دی گئی؟ اس کا جواب ایک فریق نے تو اس طرح دیا ہے کہ بلا نکاح والی روایت قابل عمل نہیں بلکہ اس کے مقابل پر وہ روایت زیادہ سند کے قابل ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت زینب کا دوبارہ نکاح پڑھا گیا تھا لیکن اصل جواب یہ ہے کہ بے شک نکاح فسخ ہو چکا تھا لیکن چونکہ ابھی تک حضرت زینب کی دوسری جگہ شادی نہیں ہوئی تھی اس لئے جب اس عرصہ میں ابو العاص مسلمان ہو گئے تو نئے نکاح کی ضرورت نہ مجھی گئی گویا زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۵۷