سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 685
۶۸۵ نہ صرف ایسے لوگوں کی جان بخشی کی بلکہ ان کے بیوی بچوں اور اموال وغیرہ کے متعلق بھی حکم دے دیا کہ انہیں واپس دئے جائیں۔اس سے بڑھ کر ایک مجرم کے ساتھ رحمت وشفقت کا سلوک کیا ہوسکتا ہے؟ پس نہ صرف یہ کہ بنو قریظہ کے واقعہ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قطعاً کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا بلکہ حق یہ ہے کہ یہ واقعہ آپ کے اخلاق فاضلہ اور حسن انتظام اور آپ کے فطری رحم و کرم کا ایک نہایت بین ثبوت ہے۔اب رہا اصل فیصلہ کا سوال۔سو اس کے متعلق بھی ہم بلا تامل کہہ سکتے ہیں کہ اس میں ہر گز کسی قسم کے ظلم و تعدی کا دخل نہیں تھا بلکہ وہ عین عدل و انصاف پر مبنی تھا۔اس کے لئے سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ بنوقریظہ کا جرم کیا تھا اور وہ جرم کن حالات میں کیا گیا۔سو تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ جب شروع شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو اس وقت مدینہ میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے یعنی بنو قینقاع، قبیلہ بنو نضیر اور قبیلہ بنوقریظہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد جو پہلا سیاسی کام کیا وہ یہ تھا کہ ان تینوں قبیلوں کے رؤساء کو بلا کر ان کے ساتھ امن و امان کا ایک معاہدہ کیا۔اس معاہدہ کی شرائط یہ تھیں کہ مسلمان اور یہودی امن وامان کے ساتھ مدینہ میں رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور ایک دوسرے کے دشمنوں کو کسی قسم کی مدد نہیں دیں گے اور نہ ایک دوسرے کے دشمنوں کے ساتھ کوئی تعلق رکھیں گے اور اگر کسی بیرونی قبیلہ یا قبائل کی طرف سے مدینہ پر کوئی حملہ ہوگا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور اگر معاہدہ کرنے والوں میں سے کوئی شخص یا کوئی گروہ اس معاہدہ کو توڑے گا یا فتنہ وفساد کا باعث بنے گا تو دوسروں کو اس کے خلاف ہاتھ اٹھانے کا حق ہوگا۔اور تمام اختلافات اور تنازعات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوں گے اور آپ کا فیصلہ سب کے لئے واجب التعمیل ہوگا۔مگر یہ ضروری ہوگا کہ ہر شخص یا قوم کے متعلق اسی کے مذہب اور اسی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جاوے لے اس معاہدہ پر یہود نے کس طرح عمل کیا ؟ اس سوال کا جواب گزشتہ اوراق میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔سب سے پہلے قبیلہ بنو قینقاع نے بد عہدی کی اور دوستانہ تعلقات کو قطع کر کے مسلمانوں سے جنگ کی طرح ڈالی اور مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کا کمینہ طریق اختیار کیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس صدارتی پوزیشن کو جو بین الاقوام معاہدہ کی رو سے آپ کو حاصل تھی نہایت متمردانہ انداز میں ٹھکرا دیا ابن ہشام ذکر معاہدہ یہود