سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 684
۶۸۴ بنوقریظہ کا واقعہ اور غیر مسلم مؤرخین بنوقریظہ کے واقعہ کے متعلق بعض غیر مسلم مؤرخین نے نہایت ناگوار طریقے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حملے کئے ہیں اور ان کم و بیش چار سو یہودیوں کی سزائے قتل کی وجہ سے آپ کو ایک نعوذ باللہ ظالم و سفاک فرمانروا کے رنگ میں پیش کیا ہے اس اعتراض کی بنا محض مذہبی تعصب پر واقع ہے جس سے جہاں تک کم از کم اسلام اور بانی اسلام کا تعلق ہے بہت سے مغربی روشنی میں تربیت یافتہ مؤرخ بھی آزاد نہیں ہو سکے۔اس اعتراض کے جواب میں اول تو یہ بات رکھنی چاہئے کہ بنو قریظہ کے متعلق جس فیصلہ کو ظالمانہ کہا جاتا ہے وہ سعد بن معاذ کا فیصلہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر گز نہیں تھا اور جب وہ آپ کا فیصلہ ہی نہیں تھا تو اس کی وجہ سے آپ پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔دوم یہ فیصلہ حالات پیش آمدہ کے ماتحت ہرگز غلط اور ظالمانہ نہیں تھا جیسا کہ ابھی ثابت کیا جائے گا۔سوم یہ کہ اس عہد کی وجہ سے جو سعد نے فیصلہ کے اعلان سے قبل آپ سے لیا تھا آپ اس بات کے پابند تھے کہ بہر حال اس کے مطابق عمل کرتے۔چہارم یہ کہ جب خود مجرموں نے اس فیصلہ کو قبول کیا اور اس پر اعتراض نہیں اٹھایا اور اسے اپنے لئے ایک خدائی تقدیر سمجھا جیسا کہ حیی بن اخطب کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے جو اس نے قتل کئے جانے کے وقت کہے تو اس صورت میں آپ کا یہ کام نہیں تھا کہ خواہ نخواہ اس میں دخل دینے کے لئے کھڑے ہو جاتے۔سعد کے فیصلہ کے بعد اس معاملہ کے ساتھ آپ کا تعلق صرف اس قدر تھا کہ آپ اپنی حکومت کے نظام کے ماتحت اس فیصلہ کو بصورت احسن جاری فرماویں اور یہ بتایا جا چکا ہے کہ آپ نے اسے ایسے رنگ میں جاری فرمایا کہ جو رحمت و شفقت کا بہترین نمونہ سمجھا جاسکتا ہے۔یعنی جب تک تو یہ لوگ فیصلہ کے اجرا سے قبل قید میں رہے آپ نے ان کی رہائش اور خوراک کا بہتر سے بہتر انتظام فرمایا اور جب ان پر سعد کا فیصلہ جاری کیا جانے لگا تو آپ نے اسے ایسے رنگ میں جاری کیا جو مجرموں کے لئے کم سے کم موجب تکلیف تھا یعنی اول تو ان کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے آپ نے یہ حکم دیا کہ ایک مجرم کے قتل کے وقت کوئی دوسرا مجرم سامنے نہ ہو بلکہ تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ جن لوگوں کو مقتل میں لایا جا تا تھا ان کو اس وقت تک علم نہیں ہوتا تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں جب تک وہ عین مقتل میں نہ پہنچ جاتے تھے۔اس کے علاوہ جس شخص کے متعلق بھی آپ کے سامنے رحم کی اپیل پیش ہوئی آپ نے اسے فوراً قبول کر لیا اور دیکھوطبری وابن ہشام