سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 686 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 686

۶۸۶ مگر جب وہ مسلمانوں کے سامنے مغلوب ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا اور صرف اس قدر احتیاطی تدبیر پر اکتفا کی کہ بنو قینقاع مدینہ سے نکل کر کسی دوسری جگہ جا کر آباد ہو جائیں تا کہ شہر کا امن برباد نہ ہو اور مسلمان ایک مارآستین کے شر سے محفوظ ہو جا ئیں۔چنانچہ قبیلہ بنوقینقاع کے لوگ بڑے امن وامان کے ساتھ اپنے اموال اور بیوی بچوں کو اپنے ہمراہ لے کر مدینہ سے نکل کر دوسری جگہ آباد ہو گئے۔مگر اس واقعہ سے یہود کے باقی دو قبائل نے سبق حاصل نہ کیا بلکہ آپ کے رحم نے ان کو اور بھی نا واجب جرأت دلا دی اور ا بھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ یہود کے دوسرے قبیلہ بنونضیر نے بھی سر اٹھایا اور سب سے پہلے ان کے ایک رئیس کعب بن اشرف نے معاہدہ کوتو ڑ کر قریش اور دوسرے قبائل عرب کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف ساز باز شروع کی اور عرب کے ان وحشی درندوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے خلاف خطرناک طور پر ابھارا اور مسلمانوں کے خلاف ایسے ایسے اشتعال انگیز شعر کہے کہ جس سے ملک میں مسلمانوں کے لئے ایک نہایت خطرناک صورت حال پیدا ہوگئی اور پھر اس بد بخت نے معزز مسلمان عورتوں کا نام لے لے کر اپنے اشعار میں ان پر پھبتیاں اڑائیں اور بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی سازش کی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ شخص اپنے کیفر کردار کو پہنچا تو اس کا قبیلہ یک جان ہو کر مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور اس دن سے بنونضیر نے معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر مسلمانوں کے خلاف ساز باز شروع کردی اور بالآخر سارے قبیلہ نے مل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ باندھا اور یہ فیصلہ کر لیا کہ جس طرح بھی ہو آپ کو زندہ نہ چھوڑا جاوے اور جب ان کے ان خونی ارادوں کا علم ہونے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تنبیہ اور سزا کا طریق اختیار کیا تو وہ نہایت مغرورانہ انداز میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کو تیار ہو گئے اور اس جنگ میں بنوقریظہ نے ان کی اعانت کی۔مگر جب بنو نضیر مغلوب ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کو تو بالکل ہی معاف فرما دیا ہے اور بنو نضیر کو بھی مدینہ سے امن وامان کے ساتھ چلے جانے کی اجازت دے دی۔البتہ اس قدر کیا کہ انہیں ان کے اسلحہ ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی مگر اس احسان کا بدلہ بنو نضیر نے یہ دیا کہ مدینہ سے باہر جا کر ان کے رؤساء نے تمام عرب کا چکر لگایا اور مختلف قبائل عرب کو خطر ناک طور پر اشتعال دے کر ایک ٹڈی دل لشکر مدینہ پر چڑھا لائے اور سب سے یہ پختہ بخاری حدیث بنی النفير بخاری حدیث بنی النضیر