سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 655 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 655

مخفی تغیر کے ماتحت انسانی معدہ پر کسی وقت ایسا غیر معمولی تصرف ہو کہ وہ اپنے معمول کی نسبت بہت تھوڑی غذا کھانے سے ہی شکم سیری محسوس کرنے لگے۔وغیر ذالک اب رہا یہ امر کہ اس حدیث میں ایک ایسی بات بیان کی گئی ہے جو ہمارے عام مشاہدہ اور معروف قانون قدرت کے خلاف ہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو قانون قدرت کی حد بندی ایک نہایت ہی مشکل چیز ہے بلکہ حقیقت نا ممکن ہے اور یقینی اور قطعی طور پر یہ قرار دے دینا کہ یہ یہ بات قانون قدرت میں شامل ہے اور یہ یہ بات شامل نہیں ہے ایک بہت ہی بڑا دعویٰ ہے جس کی کوئی عقل مند شخص جرات نہیں کر سکتا اور حق یہ ہے کہ جب ایک بات عملاً وقوع پذیر ہو جاوے اور سمجھدار اور صادق القول لوگوں کی ایک جماعت اس کی شاہد ہوتو پھر وہی بات قانون قدرت کا حصہ سمجھی جانی چاہئے اور ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ گو عام طور پر قانون قدرت اس اس رنگ میں ظاہر ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی کسی ایسے مخفی تغیر کی وجہ سے جسے ہم ابھی تک نہیں سمجھ سکے اس میں اس اس رنگ میں استثنا بھی ہو جاتی ہے۔علاوہ ازیں ہمیں یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ چونکہ معجزات کی بڑی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ تا خدا تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے مرسلین کی صداقت کے متعلق ایسے نشانات قائم کئے جائیں جن سے سعید لوگ حق کی طرف یقینی راہ پانے اور پھر اس راہ پر ترقی کرنے میں آسانی محسوس کریں اور دنیا کی تاریکیوں میں ان کے لئے روشنی کی چمک پیدا ہو جاوے۔اس لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی رنگ میں معجزات میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو جو انسانی قدرت و علم سے بالا کبھی جاسکے۔پس جہاں ایک طرف ایمان کی غرض وغایت کا یہ تقاضا ہے کہ کم از کم ابتدا میں مشاہدہ کا رنگ نہ پیدا ہو اور اخفاء کا پردہ قائم رہے وہاں دوسری طرف زندہ ایمان پیدا کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اخفاء کے پردوں کو ایک حد تک کم کر کے کبھی کبھی حقیقت کی جھلک بھی دکھا دی جاوے اور انہی دو نقطوں کی وسطی حالت کے مظاہرہ کا نام معجزہ ہے جسے اس کی حقیقت کوملحوظ رکھتے ہوئے قرآنی محاورہ میں آیت یعنی نشان اور علامت کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔دراصل خدا کی ہستی ایسی وراء الوراء ہے (اور اپنے مقام کے لحاظ سے وہ وراء الوراء ہی ہونی چاہئے ) کہ اس پر ایمان لانے اور اسے پہچاننے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے محض ذہنی اور قیاسی استدلالات ہرگز انسان کے دل میں وہ یقین پیدا نہیں کر سکتے جو زندہ ایمان کی بنیاد بننے کے لئے ضروری ہے جس کے نتیجہ میں خدا کا وجود ایک محض خیالی فلسفے کا حصہ نہیں رہتا بلکہ اسی طرح محسوس و مشہور ہو جاتا ہے جیسا کہ اس دنیا کی چیز میں محسوس و مشہور ہیں گو نوعیت میں اس سے بہت مختلف اور انسان خدا کے ساتھ