سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 656 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 656

ایک ذاتی تعلق پیدا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جو اس کی زندگی کا مقصد اعلیٰ ہے۔پس ضروری تھا کہ خدا کی طرف سے ایسے سامان مہیا کئے جاتے جو انسان کے دل میں اس قسم کا ایمان پیدا کر سکیں اور انہیں سامانوں کا ایک حصہ آیات و معجزات و خوارق ہیں جو خدا کے انبیاء وصلحاء کے ذریعہ ہر زمانہ میں ظاہر ہوتے رہے ہیں اور جس کی مثالیں ہر قوم وملت میں پائی جاتی ہیں۔اس جگہ اگر کسی شخص کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ عام معروف قانون قدرت کے خلاف کوئی امر ظا ہر ہو۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب یہ ایک امر واقع ہے کہ اس قسم کے امور ظاہر ہوتے رہتے ہیں اور کثیر التعداد عقل مند معتبر لوگوں کی شہادت اسے سچا ثابت کرتی ہے اور یہ شہادت ہر زمانہ اور ہر قوم میں پائی جاتی ہے تو کوئی عقل مند اس قسم کے واقعات کی سچائی کے متعلق شبہ نہیں کر سکتا۔علاوہ ازیں کم از کم ان لوگوں کے لئے جو فی الجملہ اس دنیا کا کوئی خالق مانتے ہیں اور اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ یہ دنیا خود بخود اپنے آپ سے نہیں ہے بلکہ ایک بالا ہستی کی قدرت خلق سے عالم وجود میں آئی ہے اور یہ کہ وہی بالا ہستی اب اس کا رخانہ عالم کو چلا رہی ہے اور تمام خواص الاشیاء اور قوانین قدرت اسی وراء الوراء ہستی کے حکم کے ماتحت جاری ہیں اس بات کے سمجھنے میں کوئی روک نہیں ہوسکتی کہ وہی بالا و قادر ہستی اپنے عام قانون میں کسی خاص وقت میں کسی خاص مصلحت کے ماتحت کوئی تبدیلی یا استثناء بھی کر سکتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ O یعنی اللہ اپنے حکم پر بھی غالب اور حکمران ہے مگر اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔یعنی یہ نہ سمجھو کہ ہم نے دنیا کا قانون بنا دیا تو بس اب ہمارے ہاتھ بندھ گئے بلکہ ہم اپنے قانون پر بھی حکمران اور غالب ہیں اور جب مناسب سمجھیں اس میں تبدیلی یا استثنا کر سکتے ہیں۔اسی لئے محققین نے لکھا ہے کہ دراصل خدا کی طرف سے دنیا میں دو تقدیر میں جاری ہیں ایک تو یہی عام معروف قانون قدرت ہے جسے تقدیر عام کہتے ہیں اور جس کے ماتحت یہ کارخانہ عالم اپنے عام حالات میں جاری نظر آتا ہے۔دوسرے وہ خاص قانون ہے جو خاص اوقات میں خاص مصالح کے لئے جاری ہوتا ہے جسے تقدیر خاص کہتے ہیں جو آیات و معجزات کے طریق پر رونما ہوتی ہے اور جس کے ذریعہ خدا کا وجود تقدیر عام کی نسبت بہت زیادہ روشن صورت میں انسان کے سامنے آجاتا ہے۔مگر یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ آیات و معجزات کا ظہور صرف تقدیر خاص کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے اور : سورۃ یوسف : ۲۲ تقدیر الهی صفحه ۱۲۴ تا ۱۴۳