سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 654
ہے۔یعنی اس قسم کے معجزات میں صرف اس قدر روشنی دکھائی جاتی ہے جو محض ایک دھندلے طریق پر راستہ دکھا سکے۔چنانچہ متقین نے لکھا ہے کہ عام طور پر معجزہ کی مثال ایسی ہے جیسے چاندنی رات کی روشنی جس کے کچھ حصہ میں بادل بھی ہو۔اس قسم کی روشنی پیدا ہونے پر وہ لوگ جن کی آنکھوں کی بینائی کا نور باقی ہوتا ہے راستہ دیکھ لیتے ہیں مگر وہ لوگ جن کی آنکھوں میں بینائی کا نور مر چکا ہوتا ہے یا شب کور ہوتے ہیں یا جنہوں نے تعصبات کی پٹی اپنی آنکھوں پر باندھی ہوتی ہے وہ راستہ کی طرف ہدایت نہیں پاتے۔لے اس لئے باوجود اس قسم کے معجزات دکھائے جانے کے سعید اور شقی میں امتیاز قائم رہتا ہے اور ایمان کا ثواب ضائع نہیں جاتا۔دوم وہ معجزات جو مومنین کے لئے دکھائے جاتے ہیں۔جو قسم اول کے معجزات سے روشنی پا کر صحیح راستہ اختیار کر چکے ہوتے ہیں۔ان لوگوں کے لئے طبعا اخفا کے پردے کم کر دئیے جاتے ہیں اور بسا اوقات انہیں ایسے معجزات دکھائے جاتے ہیں جو حقیقی مشاہدہ کا رنگ تو نہیں رکھتے مگر ان میں اخفا کا پردہ صورت اول کی نسبت بہت کم ہوتا ہے اور اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تا یہ لوگ ایمان و عرفان کے اعلیٰ مراتب کی طرف ترقی کر سکیں۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایمان کی ابتداء غیب سے شروع ہوتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ انسان حسب استعداد صالحیت اور شہیدیت اور صدیقیت اور نبوت کے مراتب کی طرف ترقی کرتا جاتا ہے۔اور لازم جوں جوں ایمان کا مرتبہ ترقی کرتا ہے معجزات کی نوعیت بھی ساتھ ساتھ بدلتی جاتی ہے اور اخفاء کے پردے کم ہوتے جاتے ہیں۔چنانچہ شہید تو کہتے ہی اسے ہیں جس کے لئے اخفا کے پردے کم کر دیئے گئے ہوں۔اب اگر اس اصولی قاعدہ کے ماتحت اوپر والے واقعہ کے متعلق غور کیا جاوے تو کوئی حقیقی اعتراض وارد نہیں ہوتا کیونکہ نہ صرف یہ کہ اصول شہادت و روایت کے لحاظ سے اس واقعہ کا وقوع پوری طرح ثابت ہے اور کسی معقول شبہ کی گنجائش نہیں کی جاسکتی بلکہ وہ خدا کی کسی بیان کردہ سنت یا کسی غیر مشروط وعدے یا کسی مسلمہ صفت کے بھی خلاف نہیں ہے اور پھر اگر ایک طرف اس میں انسانی طاقت سے بالا قدرت کا مظاہرہ پایا جاتا ہے تو دوسری طرف گو اس وجہ سے کہ یہ واقعہ صرف مومنین کے سامنے وقوع میں آیا اور انہی کے ایمان کی زیادتی اس کی غرض وغایت تھی اس میں اخفا کا پردہ کم نظر آتا ہے۔مگر بہر حال وہ ایسے مشاہدہ کا مرتبہ پیدا نہیں کرتا جس میں امکانی طور پر بھی کوئی جہت تاویل کی باقی نہ رہے اور نصف النہار کے سورج کی طرح حقیقت ظاہر ہو جاوے۔کیونکہ مثلاً امکانی طور پر ایسا ہوسکتا ہے کہ کسی ل : براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۳۳ سورۃ فاتحہ : ۷،۶ نیز سورۃ نساء : ۷۰