سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 653 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 653

۶۵۳ کے واقعات کے متعلق عقلاً اور شرعاً اصل قابل تحقیق باتیں چار ہوتی ہیں : اول یہ کہ واقعہ کا وقوع معتبر اور چشم دید شہادت سے پوری طرح ثابت ہو یعنی یہ کہ اس کے وقوع کے متعلق اصول شہادت کے لحاظ سے کوئی معقول شبہ نہ کیا جا سکے لے دوسرے یہ کہ اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جو خدا تعالیٰ کی کسی بیان کر دہ سنت یا اس کے کسی غیر مشروط وعدے یا کسی مسلمہ صفت کے خلاف ہو۔کیونکہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ خدا کی طرف سے ایسے معجزات و خوارق ظاہر ہوں جن کی وجہ سے کسی نہ کسی رنگ میں خود اسی کی ذات پر اعتراض وارد ہوتا ہو۔تیسرے یہ کہ اس کی نوعیت ایسی ہونی چاہئے کہ اس میں کسی نہ کسی جہت سے انسانی علم اور انسانی قدرت سے کوئی بالا چیز پائی جاتی ہوتا کہ وہ اس بات کی علامت سمجھی جا سکے کہ اس کا منبع انسانی دل و دماغ نہیں ہے بلکہ کوئی بالا ہستی ہے۔چوتھے یہ کہ اس میں ایک حد تک اخفاء کا رنگ بھی پایا جاتا ہو۔یعنی ایسی صورت نہ ہو جو خدا تعالیٰ کی ذات وصفات اور اس کے مرسلین کی صداقت وغیرہ کے متعلق گویا مشاہدہ کا مرتبہ پیدا کر دے اور حقیقت ایسی کھل جائے کہ اس میں امکانی طور پر بھی کسی قسم کے شک پیدا کرنے کی گنجائش نہ رہے جیسا کہ مثلاً سورج کے وجود کے متعلق کسی انسان کے لئے شک کی گنجائش نہیں ہے۔کیونکہ اگر ایسے معجزات ظاہر ہوں تو اس سے ایمان کی غرض فوت ہو جاتی ہے اور ایمان لانا کار ثواب نہیں رہتا ہے آخر الذکر امر کے متعلق یہ بات بھی یادرکھنی چاہئے کہ معجزات میں جو اخفا کا پردہ رکھا جاتا ہے اس کے مختلف مدارج ہوتے ہیں یعنی بعض معجزات میں اخفاء کا پردہ زیادہ ہوتا ہے اور بعض میں نسبتا کم ہوتا ہے اور اس جہت سے معجزات کی قسمیں موٹے طور پر دو سمجھی جاسکتی ہیں۔اوّل وہ معجزات جو غیر مومنین کی ہدایت اور ان پر اتمام حجت کرنے کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ان میں جیسا کہ خدا تعالیٰ کی سنت سے پتہ لگتا ہے اور عقل بھی یہی چاہتی ہے اخفا کا پردہ زیادہ رکھا جاتا : سورۃ حجرات: ۷۔سورۃ تحریم : ۴۔سورۃ توبہ : ۱۲۰ ہے : سورۃ بنی اسرائیل : ۷۸۔سورۃ احزاب : ۶۳۔سورۃ روم: ۷۔۷۔سورة هود : ۶۲ تا ۶۶۔سورۃ حشر : ۱۹ تا ۲۵۔۳ : سورۃ قمن :۱۲٬۱۱۔سورۃ شوری ۱ تا ۲۰ سورۃ اعراف: ۱۸۱ ۴ سورة بقره : ۴۔سورۃ حدید: ۲۶۔سورۃ یونس: ۸۸، ۹۱ تا ۹۳