سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 503 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 503

۵۰۳ دنیا کی نعمتوں سے قطعاً کوئی شغف نہیں تھا اور جہاں تک نعماء دنیا کا تعلق ہے آپ کی زندگی ایک محض مسافرانہ زندگی تھی۔تعدد ازدواج کے متعلق اس نوٹ میں یہ ذکر بھی بے موقع نہ ہوگا کہ تعددازدواج کی اجازت دینے میں اسلام اکیلا نہیں ہے بلکہ دنیا کے اکثر مذاہب میں تعدد ازدواج کی اجازت دی گئی ہے مثلاً موسوی شریعت میں اس کی اجازت ہے۔یا اور بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء اس پر عملاً کار بند رہے ہیں۔یہ ہندوؤں کے مذہب میں تعدد ازدواج کی اجازت ہے۔اور کئی ہندو بزرگ ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے رہے ہیں مثلاً کرشن جی تعدد ازدواج پر عملاً کار بند تھے۔اور ہندو راجے مہاراجے تو اب تک تعدد ازدواج پر کار بند پر ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح ناصری کا بھی کوئی قول تعدد ازدواج کے خلاف مروی نہیں ہے اور چونکہ شریعت موسوی میں اس کی اجازت تھی اور عملاً بھی حضرت مسیح ناصری کے زمانہ میں تعد دازدواج کا رواج تھا، اس لیے ان کی خاموشی سے یہی نتیجہ نکالا جائیگا کہ وہ اسے جائز سمجھتے تھے۔پس اسلام نے اس میں کوئی جدت نہیں کی ؛ البتہ اسلام نے یہ کیا کہ تعدد ازدواج کی حد بندی کر دی اور اسے ایسے شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا کہ افراد اور اقوام کے استثنائی حالات کے لیے ایک مفید اور بابرکت نظام قائم ہو گیا۔اس نوٹ کے خاتمہ پر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گو مخالفین کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں پر بہت سخت سخت اعتراض کئے گئے ہیں اور ہر شخص نے اپنی فطرت اور اپنے خیالات کے مطابق آپ کے تعدد ازدواج کے مسئلہ کو دیکھا ہے مگر پھر بھی صداقت کبھی کبھی مخالفین کے قلم و زبان پر بھی غالب آگئی ہے اور انہیں اگر کلی طور پر نہیں تو کم از کم جزو ا حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا ہے؛ چنانچہ مسٹر مار گولیس بھی جن کی آنکھ عموماً ہر سیدھی بات کو الٹا دیکھنے کی عادی ہے اس معاملہ میں حقیقت کے اعتراف پر مجبور ہوئے ہیں۔وہ اپنی کتاب ”محمد“ میں لکھتے ہیں: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بہت سی شادیاں جو خدیجہ کے بعد وقوع میں آئیں بیشتر یورپین مصنفین کی نظر میں نفسانی خواہشات پر مبنی قرار دی گئی ہیں لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیادہ تر اس جذ بہ پر مبنی نہیں تھیں۔محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بہت سی شادیاں قومی اور لی: استثناء باب ۲۱ آیت ۱۵ وسلاطین- اباب ۱۱ آیت ۳ : مثلا دیکھو حالات حضرت ابراہیم و حضرت یعقوب و حضرت داؤ داور حضرت سلیمان و غیر ہم علیہم السلام : منو ۹ ۹ ۹ 6 6 ۱۸۳ ۱۴۹ ۱۲۲ سری کرشن مصنفہ لالہ لاجپت رائے صفحہ ۹۷ ، ۹۸