سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 502 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 502

۵۰۲ الغرض وہ اغراض جن کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیاں وقوع میں آئیں نہایت مبارک اور پاکیزہ تھیں اور ان میں غالب طور پر فرائض نبوت کی ادائیگی مدنظر تھی اور شادیوں پر ہی موقوف نہیں بلکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی کا مطالعہ کیا جاوے تو پتہ لگتا ہے کہ آپ جو کام بھی کرتے تھے خواہ وہ بظاہر دنیا کا ہو یا دین کا اس میں بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ کی مقدم اور غالب غرض فرائض نبوت کی ادائیگی ہوتی تھی اور دنیا کی نعمتوں سے آپ کو کبھی بھی شغف نہیں ہوا اور مندرجہ ذیل حدیث یقینا آپ کی زندگی کا بہترین نقشہ ہے: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم نَامَ عَلَى حَصِيرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَرَ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اَمَرُ تَنَا أَنْ نَبُسُطُ لَكَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ مَالِي وَلِلدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا یعنی ابن مسعود روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک موٹی اور کھردری چٹائی پر لیٹ کر سو گئے جب آپ اُٹھے تو اس چٹائی کا نشان آپ کے جسم پر نظر آتا تھا۔اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ پسند فرما ئیں تو ہم آپ کے لیے آرام و آسائش کا سامان مہیا کر دیں۔آپ نے فرمایا ابن مسعود! مجھے دنیا کی نعمتوں سے کیا کام ہے میری اور دنیا کی مثال تو یہ ہے کہ ایک سوار راستہ پر چلا جاتا ہو اور وہ تھوڑی دیر کے لیے کسی درخت کے سایہ کے نیچے دم لینے کے لیے ٹھہر جاوے اور پھر اٹھ کر اپنا راستہ لے لے۔“ اس حدیث سے یہ مراد نہیں ہے کہ دنیا کی نعمتوں سے متمتع ہونا منع ہے کیونکہ اسلام کسی جائز نعمت سے جائز طور پر متمتع ہونے سے منع نہیں کرتا بلکہ خود قرآن شریف میں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ: رَبَّنَا أُتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً : یعنی ” اے ہمارے رب ہمیں دنیا کی نعمتوں سے بھی حصہ دے اور آخرت کی نعمتوں سے بھی حصہ دے۔“ پس حدیث مندرجہ بالا سے صرف مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کا اصل مقصد دنیا کی نعمتوں کا حصول نہیں سمجھنا چاہئے اور نیز اس حدیث سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی طور پر ا : مسند احمد و ترندی بحوالہ مشکوة کتاب الرقاق صفحه ۴۴۲ : بقرة : ۲۰۲