سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 504 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 504

۵۰۴ سیاسی اغراض کے ماتحت تھیں کیونکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ چاہتے تھے کہ اپنے خاص خاص صحابیوں کو شادیوں کے ذریعہ سے اپنی ذات کے ساتھ محبت کے تعلقات میں زیادہ پیوست کر لیں۔ابوبکر و عمر کی لڑکیوں کی شادیاں یقیناً اسی خیال کے ماتحت کی گئی تھیں۔اسی طرح سر بر آوردہ دشمنوں اور مفتوح رئیسوں کی لڑکیوں کے ساتھ بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شادیاں سیاسی اغراض کے ماتحت وقوع میں آئی تھیں۔باقی شادیاں اس نیت سے تھیں کہ تا آپ کو اولا در بینہ حاصل ہو جاوے جس کی آپ کو بہت آرزو رہتی تھی۔“ یہ اس شخص کی رائے ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح نگاروں میں عناد اور تعصب کے لحاظ سے غالباً صف اول میں ہے اور گو مار گولیس صاحب کی یہ رائے غلطی سے بالکل پاک نہیں ہے۔مگر اس سے یہ ثبوت ضرور ملتا ہے کہ صداقت کس طرح ایک عنید دل کو بھی مغلوب کر سکتی ہے۔والفضل ما شهدت به الاعداء ،، دو فرضی واقعات جنگ بدر کے حالات کے بعد واقد کی اور بعض دوسرے مؤرخین نے دو ایسے واقعات درج کئے ہیں جن کا کتب حدیث اور صحیح تاریخ روایات میں نشان نہیں ملتا اور در ایتا بھی غور کیا جائے تو وہ درست ثابت نہیں ہوتے مگر چونکہ ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک ظاہری صورت اعتراض کی پیدا ہو جاتی ہے، اس لیے بعض عیسائی مؤرخین نے حسب عادت نہایت ناگوار صورت میں ان کا ذکر کیا ہے۔یہ فرضی واقعات یوں بیان کئے گئے ہیں کہ مدینہ میں ایک عورت عصماء نامی رہتی تھی جو اسلام کی سخت دشمن تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہت زہر اگلتی رہتی تھی اور اپنے اشتعال انگیز اشعار میں لوگوں کو آپ کے خلاف بہت اکساتی تھی اور آپ کے قتل پر ابھارتی تھی۔آخر ایک نابینا صحابی عمیر بن عدی نے اشتعال میں آ کر رات کے وقت اس کے گھر میں جبکہ وہ سوئی ہوئی تھی اُسے قتل کر دیا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس صحابی کو ملامت نہیں فرمائی بلکہ ایک گونہ اس کے فعل کی تعریف کی یا دوسرا واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک بڑھا یہودی ابو عفک نامی مدینہ میں رہتا تھا۔یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشتعال انگیز شعر کہتا تھا اور کفار کو آپ کے خلاف جنگ کرنے اور آپ کو قتل کر دینے کے لیے ابھارتا تھا۔آخر ایک دن اُسے بھی ایک صحابی سالم بن عمیر نے غصہ میں آکر رات کے وقت اُس کے گھر کے صحن میں ل : مارگولیس صفحه ۱۷۶ ، ۱۷۷ : ابن سعد جلد ۲ صفحه ۱۸ و ابن هشام جلد ۳ صفحه ۹۱