سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 497 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 497

۴۹۷ سے زیادہ بیوی نہیں کرنی چاہئے۔افسوس! اس جھوٹے جذباتی خیال نے کئی کمزور لوگوں کے تقویٰ پر ڈا کہ ڈالا۔کئی خاندانوں کو بے نسل کر کے دنیا سے مٹا دیا۔کئی گھروں کی خوشیوں کو تباہ کیا۔کئی گھرانوں اور کئی قوموں اور کئی ملکوں کے اتحاد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔کئی یتیموں کو آوارہ کیا۔کئی بیوگان کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑا۔کئی قوموں کی نسل کو تنزل کے رستے پر ڈال کر ان کی تباہی کا بیج بویا اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوا کہ عورت ہر صورت میں اپنے خاوند کی توجہ کی اکیلی مالک بنی رہے ! مگر یہ ایک عجیب قربانی ہے کہ بڑی چیز کو چھوٹی چیز پر قربان کیا جاتا ہے؛ حالانکہ حق یہ تھا کہ اخلاقی فوائد پر مادی فوائد قربان کئے جاتے۔دینی منافع پر دنیاوی منافع قربان کئے جاتے۔خاندانی مصالح پر ذاتی مصالح قربان کئے جاتے۔قومی مفاد پر انفرادی مفاد قربان کیے جاتے اور در حقیقت تعد دازدواج کا تو انتظام ہی ایک مجسم قربانی کا انتظام ہے اور اس میں خاوند اور بیوی دونوں کی ذاتی اور جسمانی قربانی ذریعہ اخلاق اور دینی اور خاندانی اور قومی اور ملکی مصالح کے لیے راستہ کھولا گیا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اسلام میں تعد دازدواج کا انتظام ایک استثنائی انتظام ہے جو انسانوں کی خاص ضروریات کو مد نظر رکھ کر جاری کیا گیا ہے اور یہ ایک قربانی ہے جو مرد اور عورت دونوں کو اپنے اخلاق اور دین اور خاندان اور قوم اور ملک کے لیے خاص حالات میں کرنی پڑتی ہے اور اسلام ہر شخص سے امید رکھتا ہے کہ وہ اس قسم کے حالات کے پیدا ہونے پر جو تعدد ازدواج کے لیے ضروری ہیں اپنی خواہش اور اپنے جسمانی آرام کو زیادہ بڑے مفاد کے لیے قربانی کر دینے میں تامل نہیں کرے گا اور موقع پیش آنے پر یہ ثابت کر دے گا کہ اس کی زندگی صرف اس کی ذات یا اس کے گھر تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ دنیا کی وسیع انسانیت کا ایک فرد ہے جس کی خاطر اسے اپنے شخصی مفاد کے قربان کرنے میں دریغ نہیں کرنا چاہئے۔پھر یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ تعد دازدواج کی جائز ضرورت کے پیدا ہونے پر بھی اسلام نے تعدّ دازدواج کو لازمی نہیں قرار دیا بلکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اسے اس شرط کے ساتھ مشروط کر دیا ہے کہ اگر انسان عدل کرنے کے قابل ہو تو تب تعدد ازدواج پر عمل کرے ورنہ بہر حال صرف ایک بیوی پر ہی اکتفا کرے اور عدل سے اس جگہ صرف بیویوں کے درمیان عدل کرنا مراد نہیں بلکہ ان کے ہر قسم کے حقوق کا ادا کرنا مراد ہے جو تعدد ازدواج کی صورت میں انسان پر عائد ہوتے ہیں۔پس تعد داز دواج کی دو شرطیں ہوئیں۔اوّل ان جائز اغراض میں سے کسی غرض کا پیدا ہو جانا جو اسلام نے اس کے لیے مقرر کی ہیں۔دوم انسان کا عدل کر سکنے کے قابل ہونا اور ان دونوں شرطوں کے پورا ہونے کے بغیر تعد دازدواج پر عمل ا