سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 498
۴۹۸ کرنے والا شخص اپنے وقت ، اپنی توجہ ، اپنے مال ، اپنے ظاہری سلوک غرضیکہ دل کی محبت کے سوا جس پر انسان کو اختیار نہیں ہوتا باقی سب چیزوں میں اپنی بیویوں کے ساتھ بلاکم وکاست ایک سا معاملہ کرے۔اور غور کیا جاوے تو یہ پابندی خود ایک عظیم الشان قربانی ہے جو خاوند کو کرنی پڑتی ہے۔خصوصاً ایسی حالت میں کہ اسے اپنی بیویوں میں سے ان کے ذاتی حالات اور ذاتی قابلیت کے فرق کی وجہ سے کسی سے زیادہ محبت ہوتی ہے اور کسی سے کم مگر پھر بھی وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنی ہر چیز کو تر از و کی طرح تول کر اپنی بیویوں میں برابر برابر تقسیم کرے اور یہ قربانی صرف خاوند ہی کی قربانی نہیں بلکہ اس قربانی میں اس کی بیویاں بھی برابر کی شریک ہوتی ہیں۔ان حالات میں ہر عقلمند شخص سمجھ سکتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اسلام نے تعدد ازدواج کے معاملہ میں تعیش کے خیال تک سے منع فرمایا ہے بلکہ اس نے اس کے لیے عملی طور پر شرطیں بھی ایسی لگادی ہیں کہ کوئی شخص ان شرطوں پر کار بند ہوتا ہوا عیش وعشرت میں پڑ ہی نہیں سکتا۔اس موقع پر یہ ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں میں بلکہ دنیا کی کسی قوم میں بھی تعدد ازدواج کی کوئی حد بندی نہیں تھی اور ہر شخص جتنی بیویاں بھی چاہتا تھا رکھ سکتا تھا۔مگر اسلام نے علاوہ دوسری شرائط عائد کرنے کے تعداد کے لحاظ سے بھی اسے زیادہ سے زیادہ چار تک محدود کر دیا؛ چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جن نو مسلموں کی چار سے زیادہ بیویاں تھیں انہیں یہ حکم دیا جا تا تھا کہ وہ باقیوں کو طلاق دیدیں۔مثلا غیلان بن سلمہ تھی جب مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں۔جن میں سے چھ کو حکماً طلاق دلوا دی گئی۔اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں میں کون سی اغراض مد نظر تھیں کیونکہ ہمارا اصل مضمون یہی ہے۔سو جاننا چاہئے کہ عام اغراض تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں میں وہی تھیں جو اسلام نے عام طور پر نکاح اور تعدد ازدواج کی بیان کی ہیں اور جن کا ذکر اوپر گذر چکا ہے اور ان اغراض میں سے خصوصیت کے ساتھ آپ کے مد نظر بقائے نسل محبت اور رحمت کے تعلقات کی توسیع اور انتظام یتامی و بیوگان کی غرضیں تھیں اور محبت اور رحمت کے تعلقات کی توسیع کی غرض کے ماتحت آپ کے پیش نظر ایسی عورتیں تھیں جو مصالح قوم وملت اور مصالح سیاست وحکومت کے لحاظ سے زیادہ مناسب تھیں لیکن ان عام اغراض کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص حالات کے ماتحت آپ کی شادیوں کی بعض خاص وجوہات بھی تھیں اور یہ اغراض دو تھیں۔اوّل آپ کے ذاتی نمونہ سے بعض جاہلانہ : مشكلوة كتاب القسم : ترندی ابواب النکاح