سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 496
۴۹۶ ہو۔اسی طرح مناسب حد تک مالی حالت کے مدنظر رکھنے کی بھی تحریک کی گئی ہے۔اسی طرح ایک حد تک عمر اور طبیعت کی مناسبت کو بھی ملحوظ رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔اور یہی اصول دوسرے حالات میں چسپاں ہوتا ہے مگر جس بات کی اسلام ہدایت دیتا ہے وہ یہ ہے کہ ان باتوں کو دینی پہلو کے مقابلہ میں ترجیح نہیں دینی چاہئے کیونکہ اگر دینی پہلو کی خوبیاں موجود نہ ہوں تو محض یہ خوبیاں حقیقی اور دائمی خوشی کی بنیاد نہیں بن سکتیں بلکہ بعض صورتوں میں مضر اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔اب ایک طرف تعد دازدواج کی اغراض اور دوسری طرف اس اصول کو جو بیویوں کے انتخاب کے لیے اسلام نے تجویز کیا ہے، مدنظر رکھا جاوے تو ہر عقمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی بابرکت انتظام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں قائم کیا ہے اور اس میں بنی نوع انسان کے بڑے سے بڑے حصہ کی بڑی سے بڑی بھلائی مد نظر ہے۔دراصل جن لوگوں نے تعدد ازدواج کے خلاف رائے ظاہر کی ہے انہوں نے اپنی نظر کو بہت ہی محدود رکھا ہے اور خاوند و بیوی کے جذباتی تعلقات کے سوا کسی اور بات کی طرف ان کی نظر نہیں اٹھی اور نہ ان لوگوں نے کبھی ٹھنڈے دل سے نکاح کی اغراض اور بنی نوع انسان کی ضروریات کے متعلق غور کیا ہے، ورنہ یہ مسئلہ ایسا نہیں تھا کہ کوئی فہمیدہ شخص اس کی خوبیوں سے انکار کی گنجائش پاتا۔پھر یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ تعدد ازدواج کا انتظام اسلام میں قاعدہ کے طور پر نہیں ہے بلکہ یہ ایک استثناء ہے جو نکاح کی جائز اغراض کے حصول اور نسل انسانی کی جائز ضروریات کے پورا کرنے کے لیے خاص خاص قسم کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے جاری کی گئی ہے۔پس اس کے متعلق رائے لگاتے ہوئے اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کیا دنیا میں انسان کو ایسے حالات پیش نہیں آسکتے کہ جن کے ماتحت تعدّ دازدواج ایک ضروری علاج قرار پاتا ہے اور انسان کی ذات یا اس کے خاندان یا اس کی قوم یا اس کے ملک کے مفاد اس بات کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسری بیوی سے شادی کرے۔مجھے شہنشاہ نپولین کی زندگی کا وہ واقعہ نہیں بھولتا کہ جب اس نے اپنے ملکی مفاد کے ماتحت حصول اولاد کی غرض سے دوسری بیوی کی ضرورت محسوس کی مگر یہ ضرورت کس طرح پوری کی گئی ؟ اس کے تصور سے میرے بدن پر ایک لرزہ آ جاتا ہے۔شہنشاہ کی ملکہ جوزفین کی طلاق کا واقعہ تاریخ کے تاریک ترین واقعات میں سے ہے اور اس کی تہہ میں یہی جھوٹا جذباتی خیال ہے کہ انسان کو کسی صورت میں بھی ایک مسلم کتاب الرضاع باب المطلقه ثلاثا لا نفقة لها مسلم کتاب الرضاع باب استحباب نکاح البکر و بخاری کتاب النکاح باب الشیبات