سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 490 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 490

۴۹۰ اور رحمت کے تعلقات کی توسیع ، چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: وَ أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ اور اے مسلمانو! جائز کی جاتی ہیں تمہارے لیے تمام عورتیں سوائے ان عورتوں کے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے یہ کہ تم ان کے مہر مقرر کر کے ان کے ساتھ نکاح کرو مگر تمہارے نکاح کی غرض یہ ہونی چاہئے کہ تم بیماریوں اور بدیوں سے محفوظ ہو جا ؤ اور یہ غرض نہیں ہونی چاہئے کہ تم شہوت کے طریق پر عیش و عشرت میں پڑو۔“ اس آیت میں احصان والی غرض بیان کی گئی ہے یعنی (الف ) یہ کہ نکاح کے ذریعہ انسان بعض ان خاص قسم کی جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچ جاوے جو تجرد کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں اور (ب) یہ کہ وہ بعض روحانی اور اخلاقی بیماریوں سے محفوظ ہو جاوے، لیکن ناپاک خیالات اور ناپاک تعلقات میں مبتلا نہ ہو۔اسی غرض وغایت کو ایک دوسری آیت میں یوں بیان کیا گیا ہے:- هُنَّ لِبَاسٌ نَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ : ”اے مسلمان مرد و یا درکھو کہ تمہاری عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم اپنی عورتوں کا لباس ہو۔“ یعنی تم ایک دوسرے کو بدیوں اور بیماریوں سے محفوظ کرنے کا ذریعہ ہو جیسا کہ لباس انسان کے لیے سردی اور گرمی کی تکلیف سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔اس آیت میں چونکہ عورتوں کو بھی شامل کرنا تھا اس لیے طریق بیان زیادہ لطیف کر دیا گیا ہے۔نیز اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مرد و عورت ایک دوسرے کے لیے پردہ پوشی کا بھی ذریعہ ہیں جیسا کہ لباس بھی پردہ پوشی کا ذریعہ ہوتا ہے۔پھر فرماتا ہے: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ یعنی ”اے مسلمانو! تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں جن سے تمہاری آئندہ نسل کی فصل نے پیدا ہونا ہے۔پس اب تمہیں اختیار ہے کہ جس طرح چاہو اپنی کھیتیوں کے ساتھ معاملہ کرو اور جس قسم کی فصل اپنے لیے پیدا کرنا چاہو پیدا کرلو۔“ اس آیت میں بقائے نسل کی غرض بیان کی گئی ہے یعنی یہ کہ انسانی نسل کا سلسلہ قائم رہے اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرا یہ میں یہ اشارہ بھی کر دیا ہے کہ جب بیویوں کے ذریعہ آئندہ نسل کا وجود : سورۃ نساء : ۲۵ : بقره : ۱۸۸ ۳ : بقره : ۲۲۴