سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 489 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 489

۴۸۹ خدمت میں یہ عرض کر کے کہ یا رسول اللہ مجھے اب باری کی ضرورت نہیں ہے اپنی باری حضرت عائشہ کو دے دی۔ان کا یہ خیال تو سراسر غلط اور محض وہم پر مبنی تھا، لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال تھا اور وہ اپنی عمر اور حالات کے لحاظ سے اس قابل تھیں کہ ان پر خاص توجہ صرف کی جاوے اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باری کے متعلق سودہ کی تجویز منظور فرمالی مگر اس کے بعد بھی آپ حضرت سودہ کے پاس باقاعدہ تشریف لے جایا کرتے تھے اور دوسری بیویوں کی طرح ان کی دلداری اور آرام کا خیال رکھتے تھے۔حضرت عائشہ کے خواندہ ہونے کے متعلق اختلاف ہے مگر بخاری کی ایک روایت سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے پاس ایک نسخہ قرآن شریف کا لکھا ہوا موجود تھا۔جس پر سے انہوں نے ایک عراقی مسلمان کو بعض آیات خود املا کرائی تھیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ کم از کم خواندہ ضرور تھیں اور اغلب ہے کہ انہوں نے اپنے رخصتانہ کے بعد ہی لکھنا سیکھا تھا، لیکن جیسا کہ بعض مؤرخین نے تصریح کی ہے وہ غالباً لکھنا نہیں جانتی تھیں۔۔حضرت عائشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کم و بیش اڑتالیس سال زندہ رہیں اور ۵۸ ہجری کے ماہ رمضان میں اپنے محبوب حقیقی سے جاملیں۔اس وقت ان کی عمر قریباً اڑسٹھ سال کی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت عائشہ کے رخصتانہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں تعدد ازدواج کا آغاز ہوتا ہے، اس لیے اس موقع تعد دازدواج اور اس کی حکمتیں پر اس مسئلہ کے متعلق ایک مختصر سا نوٹ درج کرنا نا مناسب نہ ہوگا لیکن پیشتر اس کے کہ تعد دازدواج کے متعلق کچھ بیان کیا جاوے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ وہ اغراض بیان کر دی جائیں جو اسلامی شریعت میں نکاح کی مقرر کی گئی ہیں۔کیونکہ منجملہ اور اغراض کے ان اغراض کے توسیعی مصالح پر ہی تعدد ازدواج کا ایک حد تک دار و مدار ہے۔سو جاننا چاہئے کہ قرآن شریف سے نکاح کی اغراض چار معلوم ہوتی ہیں۔اول انسان کا بعض جسمانی اور اخلاقی اور روحانی بیماریوں اور ان کے بدنتائج سے محفوظ ہو جانا۔اس صورت کو عربی میں احصان کہتے ہیں جس کے لفظی معنے کسی قلعہ کے اندر محفوظ ہو جانے کے ہیں۔دوم بقائے نسل سوم حصول رفیق حیات اور سکینت قلب، چهارم محبت ل : ترندی وابوداؤد بحوالہ زرقانی جلد ۳ صفحه ۲۲۹ : بلاذری باب امر الخط : باب تالیف القرآن