سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 491
۴۹۱ قائم ہونا ہے تو پھر انسان کو چاہئے کہ اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات رکھنے میں ایسا طریق اختیار کرے کہ جس کے نتیجہ میں آئندہ نسل خراب نہ ہو بلکہ بہتر سے بہتر نسل پیدا ہو۔پھر فرماتا ہے: وَرَحْمَةٌ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری جنس میں سے ہی تمہارے لیے بیویاں بنائی ہیں تا کہ تم ان کے تعلق میں سکینت قلب حاصل کرو اور پھر اس تعلق کو خدا نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت کا ذریعہ بنایا ہے۔“ اس آیت میں نکاح کی تیسری اور چوتھی اغراض بیان کی گئی ہیں۔یعنی یہ کہ خاوند کو بیوی میں اور بیوی کو خاوند میں رفیق حیات میسر آجاوے اور وہ دونوں ایک دوسرے کے تعلق میں تسکین قلب پائیں اور دوسرے یہ کہ نکاح کے ذریعہ سے خاوند اور بیوی کے متعلقین کے درمیان رشتہ وداد و اتحاد قائم ہو جاوے اور نسلی رشتہ داری کے تعلق کے علاوہ رحمی تعلق کے ذریعہ بھی مختلف خاندانوں اور مختلف قوموں کے درمیان محبت اور رحمت کی زنجیر سے منسلک ہو جانے کے موقعے میسر رہیں۔الغرض اسلامی شریعت میں نکاح کی چار اغراض بیان کی گئی ہیں۔اوّل احصان یعنی بعض جسمانی اور روحانی بیماریوں اور ان کے نتائج سے محفوظ ہو جانا۔دوم بقاء نسل سوم رفاقت حیات اور تسکین قلب، چہارم مختلف خاندانوں یا مختلف قوموں کا آپس میں محبت اور رحمت کے رشتہ کے ذریعہ سے مل جانا اور اگر غور کیا جاوے تو یہ ساری اغراض نہ صرف بالکل جائز اور مناسب ہیں بلکہ نہایت درجہ پاکیزہ اور فطرت انسانی اور ضروریات بنی نوع انسان کے عین مطابق ہیں اور ان سے خاوند بیوی کے تعلق کو ایک بہترین بنیاد پر قائم کر دیا گیا ہے اور اس تعلق سے بہترین ثمرہ پیدا کرنے کی صورت نکالی گئی ہے اور ان اغراض کے مقابلہ میں جس غرض کو قرآن شریف نے نام لے کرنا جائز قرار دیا اور اس سے مسلمانوں کو روکا ہے وہ تعیش اور شہوت رانی کی غرض ہے۔اب ہم وہ اغراض بیان کرتے ہیں جو تعدد ازدواج کی اجازت میں اسلام نے مد نظر رکھی ہیں۔سواسلامی شریعت کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ یہ اغراض دو قسم کی ہیں۔اوّل وہی عام اغراض جو نکاح ل : سورة روم : ۲۲: