سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 469 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 469

۴۶۹ اسے حقیقی غلامی سے یعنی غلامی کی اس اصطلاح سے جو غیر اسلامی دنیا میں رائج ہے تعبیر کیا جاسکتا ہے کیونکہ اول تو یہ طریق اسلام میں بالذات اختیار نہیں کیا گیا اور نہ مخصوص تعلیم میں جو اسلام جنگی قیدیوں کے متعلق دیتا ہے اس کا کوئی ذکر پایا جاتا ہے۔بلکہ در حقیقت یہ ایک جوابی تد بیر تھی جو کفار کے ظالمانہ رویہ کی وجہ سے اختیار کی گئی تھی یعنی چونکہ کفار مسلمان قیدیوں کو غلام بنا کر اپنے افراد میں تقسیم کر دیتے تھے اس لئے انہیں ہوش میں لانے کی غرض سے اسلام میں بھی کفار کے قیدیوں کو مسلمانوں کی انفرادی حراست میں دے دینے کا طریق اختیار کیا گیا۔مگر پھر بھی اسلام نے ان قیدیوں کو اس رنگ میں غلام بنانے کی اجازت نہیں دی جیسا کہ کفار بناتے تھے نیز یہ شرط کہ جنگ کے اختتام پر وہ لازماً آزاد کر دیئے جائیں۔دوسری وجہ انفرادی حراست کے طریق اختیار کئے جانے کی یہ تھی کہ اس زمانہ میں شاہی قید خانوں کا دستور نہیں تھا بلکہ دشمن کے قیدی فاتح قوم کے افراد میں تقسیم کر دیئے جاتے جو انہیں اپنی زیر نگرانی رکھتے تھے اور یہی طریق ابتدا میں اسلام میں رائج رہا۔پس در حقیقت یہ غلامی نہیں تھی بلکہ قیدیوں کے رکھنے کا ایک سٹم تھا جو بعد میں آہستہ آہستہ بدل گیا اور اس کی جگہ شاہی قید خانوں کا طریق قائم ہو گیا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جہاں تک اسلامی حکومت کا تعلق تھا یہ طریق قیدیوں کے لئے ہر گز تکلیف دہ نہیں تھا بلکہ یقیناً اس میں ان کو آج کل کے شاہی قیدیوں کی نسبت بھی زیادہ آرام ملتا تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پُر زور تعلیم اور حکومت کی چوکس نگرانی کی وجہ سے کفار کے قیدی مسلمانوں کے جس خاندان میں رہتے تھے اس کے نوکر اور خادم بن کر نہیں رہتے تھے بلکہ خاندان کے ممبر سمجھے جاتے تھے اور ان کی خاطر و تواضع مہمانوں کی طرح ہوتی تھی۔چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ بدر کے قیدیوں کو جو عموماً اسلام کے بدترین دشمن تھے مسلمانوں نے اس آرام و آسائش کے ساتھ رکھا کہ وہ ان کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور ان میں سے کئی محض اس حسن سلوک سے متاثر ہوکر مسلمان ہو گئے۔الغرض اس نام نہا د غلامی میں بھی جس کی اسلام اجازت دیتا ہے اسلام نے احسان و مروت کا وہ اعلیٰ نمونہ قائم کیا جو آج کل کی آزادی کی برکات کو بھی شرماتا ہے لیکن بہر حال چونکہ یہ طریق ایک محض جوابی رنگ رکھتا تھا اس لئے وہ ان خاص حالات کے ساتھ مخصوص سمجھا جائے گا جن کے جواب میں وہ اختیار کیا گیا۔اور اسی لئے اب اس زمانہ میں یہی فتویٰ ہے کہ چونکہ آج کل شاہی قیدیوں کا دستور قائم ہوگیا ہے اور مسلمان قیدیوں کو کفار غلام نہیں بناتے اس لئے شریعت اسلامی کے اصولی حکم کے ماتحت اب مسلمانوں کے لئے بھی یہ جائز دیکھو آیات سورۃ انفال وسورة محمدمحولہ بالا میور حالات قیدیان بدر