سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 468 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 468

۴۶۸ اس اصولی آیت کے ماتحت جنگی قیدیوں کے متعلق وہ صورت جو قید کی حالت کے لمباکئے جانے سے تعلق رکھتی ہے مختلف رنگ اختیار کر سکتی ہے۔مثلاً اگر کفار مسلمان قیدیوں سے خدمت لیتے ہوں تو مسلمان بھی کفار کے قیدیوں سے مناسب خدمت لے سکتے ہیں۔مگر یہ خدمت بہر حال ان شرائط کے ماتحت ہوگی جو غلاموں وغیرہ سے خدمت لینے کے متعلق اسلام نے مقرر فرمائی ہیں۔مثلاً یہ کہ ان کو ان کی طاقت سے زیادہ کام نہ دیا جاوے اور ایسا کام نہ دیا جاوے جسے آقا خود کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔اسی طرح اگر کفار مسلمان قیدیوں کو بجائے قومی اور ملکی قید خانوں میں رکھنے کے اپنے افراد میں تقسیم کر دیتے ہوں تو مسلمان بھی کفار کے قیدیوں کو مسلمان افراد کی سپردگی میں دے سکتے ہیں۔وغیر ذالک۔مگر بہر حال یہ ضروری ہے کہ اس قسم کی تفصیلات میں جو صورت بھی اختیار کی جاوے وہ کسی مخصوص اسلامی حکم کے خلاف نہ ہو۔مثلاً یہ کہ یہ ضروری ہے کہ قید کا سلسلہ جنگ کے اختتام پر لازما ختم کر دیا جاوے یا یہ کہ قیدی محض دشمن کی فوج کاسپاہی ہونے کی وجہ سے قتل نہ کیا جاوے یا یہ کہ قیدیوں سے خدمت ان کی طاقت اور حیثیت کے مطابق لی جاوے تے یا یہ کہ قیدیوں کے آرام و آسائش کا خاص خیال رکھا جائے۔وغیر ذالک یہ وہ تعلیم ہے جو جنگی قیدیوں کے متعلق اسلام دیتا ہے۔اب ناظرین خود انصاف کے ساتھ غور کریں کہ خواہ نام کے لحاظ سے اسے غلامی کہہ دیا جائے مگر کیا اس تعلیم میں کوئی حقیقت غلامی کی پائی جاتی ہے؟ کیا آج کل کی حکومتیں جنگی قیدی نہیں پکڑتیں؟ کیا آج کل کی حکومتیں جنگی قیدیوں سے خدمت نہیں لیتیں ؟ پھر کیا آج کل کی حکومتیں جنگی قیدیوں کی قید کے عرصہ کو جنگ کے لمبا ہو جانے کی صورت میں لمبا نہیں کر دیتیں؟ جب یہ سب کچھ ہر قوم میں ہوتا ہے اور اب بھی ہوتا ہے اور ہر زمانہ میں بین الاقوامی قانون اسے جائز قرار دیتا ہے تو پھر از روئے انصاف اس بنا پر اسلام اور بانی اسلام پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا بلکہ میں کہتا ہوں کہ یہ اسلام کا ایک احسان ہے کہ اس نے جنگی ضابطہ میں نرمی اور شفقت کے عصر کونمایاں کر کے دنیا کے امن اور اتحاد بین الاقوام کے لئے راستہ صاف کر دیا ہے۔باقی رہا انفرادی قبضہ کا سوال سو یہ درست ہے کہ ابتدا میں کفار کے قیدی عام طور پر مسلمان سپاہیوں میں تقسیم کر دیئے جاتے تھے اور دراصل یہی ایک بات ہے جو اس قانون کو غلامی کا رنگ دینے والی سمجھی جاسکتی ہے مگر غور کیا جاوے تو یہ بات ان حالات میں جن کے ماتحت اسے اختیار کیا جاتا رہا ہے ہرگز قابل اعتراض نہیں ہے اور نہ : سورة محمد : ۵ وکتاب الخراج صفحه ۱۲۱ : سورة محمد : ۵ بخاری کتاب العتق : سورة الدهر : ۱۰۹ و بخاری کتاب الجهاد و طبری و غیره