سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 470 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 470

۴۷۰ نہیں ہے کہ وہ کفار کے قیدیوں کو مسلمان افراد میں تقسیم کر کے ایک رنگ غلامی کا پیدا کریں۔چنانچہ مقدس بانی سلسلہ احمدیہ جن کا دعوی خدا کی طرف سے اس زمانہ کے لئے مامور ومصلح ہونے کا تھا تحریر فرماتے ہیں: یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارے زمانہ میں اسلام کے مقابل پر جو کافر کہلاتے ہیں انہوں نے یہ تعدی اور زیادتی کا طریق چھوڑ دیا ہے اس لئے اب مسلمانوں کے لئے بھی روانہیں کہ ان کے قیدیوں کو لونڈی غلام بناویں کیونکہ خدا قرآن شریف میں فرماتا ہے جو تم جنگجو فرقہ کے مقابل پر صرف اُسی قدر زیادتی کرو جس میں پہلے انہوں نے سبقت کی ہو۔پس جبکہ اب وہ زمانہ نہیں ہے اور اب کا فرلوگ جنگ کی حالت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسی سختی اور زیادتی نہیں کرتے کہ ان کو اور ان کے مردوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بناویں بلکہ وہ شاہی قیدی سمجھے جاتے ہیں اس لئے اب اس زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا نا جائز اور حرام ہے۔“ ! خلاصہ کلام یہ کہ جنگی قیدیوں کے متعلق اسلامی تعلیم کے اصل الاصول صرف دو ہیں۔یعنی اول یہ کہ حتی الوسع قیدی پکڑنے میں جلدی نہ کی جاوے اور صرف انتہائی حالات میں عملی جنگ ہونے کے بعد قیدی پکڑے جائیں۔دوم یہ کہ قیدی پکڑنے کے بعد حالات کے ماتحت یا تو انہیں بلافد یہ احسان کے طور پر چھوڑ دیا جاوے اور یہ سب سے زیادہ پسندیدہ صورت ہے اور یا مناسب فدیہ لے کر انہیں رہا کر دیا جاوے اور یا اگر ضروری ہو تو اختتام جنگ تک ان کی قید کے سلسلہ کولمبا کر دیا جاوے۔اس سے زیادہ جنگی قیدیوں کے متعلق کوئی منصوص تعلیم اسلامی شریعت میں پائی نہیں جاتی۔البتہ ایک عام قاعدہ کے طور پر اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر سیاسی اغراض کے ماتحت کفار کے متعلق کوئی سخت جوابی تدبیر اختیار کی جانی ضروری ہو تو وہ اس شرط کے ماتحت کی جاسکتی ہے کہ اول اس میں کوئی ایسی سختی نہ کی جاوے جس میں کفار نے خود پہل نہ کی ہو اور دوسرے وہ اسلام کی کسی دوسری منصوص تعلیم کے خلاف نہ ہو۔کفار کے قیدیوں کا مسلمان افراد میں تقسیم کر دیا جانا اسی عام قاعدہ کے ماتحت تھا لیکن چونکہ آج کل کفار مسلمانوں کے قیدیوں کو غلام نہیں بناتے اور شاہی قیدیوں کے طور پر رکھتے ہیں۔اس لئے اس زمانہ میں مسلمانوں کے لئے بھی ناجائز ہے کہ وہ کفار کے قیدیوں کو مسلمان افراد میں تقسیم کر کے کوئی رنگ غلامی کا پیدا کریں۔کیا قیدیوں کو قتل کیا جاسکتا ہے؟ یہ سوال کہ آیا قید یوں کوقتل کرنا جائز ہے یانہیں؟ اس کا مجمل جواب اوپر گزر چکا ہے کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن چشمه معرفت صفحه ۲۴۴، ۲۴۵ حاشیه