سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 467
۴۶۷ ہو جاوے اور اس کے بوجھ تمہارے سروں سے اتر جاویں۔“ یہ آیت جنگی قیدیوں کے متعلق اسلامی شریعت میں بطور بنیادی پتھر کے ہے جس میں وہ مختلف صورتیں بنادی گئی ہیں جو قیدیوں کے معاملہ میں مختلف حالات کے ماتحت اختیار کی جاسکتی ہیں۔اور وہ تین ہیں: اوّل : بطور احسان چھوڑ دینا۔دوم: فدیہ لے کر چھوڑ دینا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعامل سے پتہ لگتا ہے کہ فدیہ کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں (0) نقد فدیہ خواہ وہ یکمشت اور فوری ادائیگی کی صورت میں ہو یا مکا تبت کے اصول پر جس کی مفصل بحث او پر گزر چکی ہے ( ب ) مسلمان قیدیوں کے ساتھ تبادلہ (ج) کوئی مناسب خدمت لے لینا مثلاً اگر قیدیوں کو کوئی فن آتا ہو تو ان کے ساتھ یہ شرط کر لینا کہ اگر وہ بعض مسلمانوں کو یہ فن سکھا دیں تو رہا کر دیئے جائیں گے۔سوم : قید کی حالت کو ہی جنگ کے اختتام تک لمبا کر دینا اور جنگ کے اختتام سے اس کا کامل اختتام مراد ہے جبکہ وہ صرف جنگی کارروائیوں کا سلسلہ عملاً ختم ہو جاوے بلکہ وہ بوجھ بھی جو اس کی وجہ سے ملک اور قوم پر پڑے ہوں اور جن کی ذمہ داری دشمن قوم پر سمجھی جاوے دور ہو جائیں۔جیسا کہ قرآنی الفاظ حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزارھا میں اشارہ پایا جاتا ہے۔اور یہ آخری صورت اس لئے تجویز کی گئی ہے کہ اگر حالات ایسے ہوں کہ نہ تو کفار کے قیدیوں کو احسان کے طور پر چھوڑ نا قرین مصلحت ہواور نہ ہی وہ یا ان کے رشتہ دارا اپنی ضد یا عداوت کی وجہ سے فدیہ ادا کرنے پر آمادہ ہوں تو پھر انہیں جنگ کے حقیقی اختتام تک قید رکھا جا سکے تاکہ ان کے رہا ہونے سے مسلمانوں کی مشکلات اور خطرات میں اضافہ نہ ہو اور یہی وہ صورت ہے جسے اسلام میں غلامی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور جس کی اسلام نے اجازت دی ہے مگر غور کیا جاوے تو دراصل یہ غلامی نہیں بلکہ محض ایک قید ہے اور پھر اس قید یا غیر حقیقی غلامی کو بھی اسلام نے ایک اصولی قاعدہ کے ساتھ مشروط ومحدود کر دیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ط وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِع وَلَبِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصُّبِرِينَ یعنی ”اے مسلمانو! اگر تم کفار کے مقابلہ میں انتقام اور سزا کے طریق پر کوئی سختی کرنا مناسب خیال کرو تو ضروری ہے کہ تمہاری سختی اس سختی سے تجاوز نہ کرے جو کفار تمہارے خلاف کرتے ہوں اور یہ بھی ضروری ہے کہ تم کوئی ایسی سختی نہ کرو جس میں کفار نے سبقت اور پہل نہ کی ہوا اور اگر تمہارے لئے صبر کرنا ممکن ہو تو پھر صبر ہی سے کام لو کیونکہ صبر کرنا بہتر ہے۔“ : سورة نحل ۱۲۷ :