سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 462 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 462

۴۶۲ نہیں آیا کہ کسی آزاد انسان کو حقیقی طور پر غلام بنانا جائز ہے یا یہ کہ کسی آزاد شخص کو غلام بنانا ہو تو اس کا یہ طریق ہے۔حالانکہ اگر اسلام میں کسی آزاد انسان کو حقیقی طور پر غلام بنانا جائز ہوتا تو غلامی کے جملہ مسائل میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ وسیع الاثر اور سب سے زیادہ نازک مسئلہ جو توضیح و تنصیص کا حقدار تھا اور جس میں ایک نہایت واضح اور منصوص حکم دیئے جانے کی ضرورت تھی وہ یہی غلام بنانے کا مسئلہ تھا مگر تخصیص و توضیح تو الگ رہی قرآن و حدیث میں اس کا ذکر تک نہیں ہے جو اس بات کی ایک یقینی دلیل ہے کہ اسلام میں کسی آزاد شخص کو حقیقی طور پر غلام بنا نا جائز نہیں ہے۔لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ہمارے دعویٰ کی بنیا د صرف منفی قسم کے دلائل پر نہیں ہے بلکہ خدا کے فضل سے اسلامی شریعت میں نہایت واضح اور منصوص طور پر یہ حکم موجود ہے کہ کسی آزاد انسان کو اس کی جائزہ آزادی سے محروم کر کے غلام بنانا ایک سخت ممنوع اور حرام فعل ہے جس کے متعلق قیامت کے دن خدا کے حضور سخت مواخذہ ہوگا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللهُ تَعَالَى ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصَمُهُمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ وَ رَجُلٌ بَاعٍ حُرًّا فَا كِلْ ثَمَنَهُ وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ اَجِيْرًا فَاسْتَوْفِى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے میں قیامت کے دن جنگ کروں گا۔اول وہ شخص جو میر ا واسطہ دے کر کسی سے کوئی عہد باندھتا ہے اور پھر غداری کرتا ہے۔دوسرے وہ جو کسی آزاد شخص کو غلام بناتا ہے اور اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کھا جاتا ہے اور تیسرے وہ جو کسی شخص کو کام پر لگاتا ہے اور پھر اس سے کام تو پورا لے لیتا ہے مگر اس کی مزدوری اسے نہیں دیتا۔“ اور دوسری روایت میں یوں آتا ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ لا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلَاةٌ وَرَجُلٌ اِعْتَبَدَ مُحَرَّرًا۔۔۔۔الخ یعنی ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ تین قسم کے لوگ ہیں جن کی نماز میرے حضور ہرگز قبول نہیں ہوگی اور میں ان سے بخاری کتاب البيع ابو داؤد بروایت فتح الباری جلد ۴ صفحه ۳۴۶