سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 461 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 461

۴۶۱ پہلے ہم مقدم الذکر بحث کو لیتے ہیں۔سو اس کے متعلق جاننا چاہئے کہ جیسا کہ گزشتہ بحث میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔اسلام نے حقیقی غلامی کو یعنی غلامی کے ان ظالمانہ طریقوں کو جو مذہبی جنگوں میں قیدی پکڑے جانے کے علاوہ ہیں یکدم اور قطعی طور پر منسوخ کر دیا تھا مگر پیشتر اس کے کہ ہم اس بارے میں کوئی معین اور منصوص اسلامی احکام پیش کریں ہم اس کے متعلق دو منفی قسم کے دلائل ہدیہ ناظرین کرنا چاہتے ہیں۔پہلی دلیل یہ ہے کہ قطع نظر اس کے کہ اصولی طور پر اسلام بڑی سختی کے ساتھ ظلم و تعدی کے طریق سے منع فرماتا ہے اور انسانی آزادی اور انسانی مساوات کا نہایت زبر دست حامی ہے اور یہ تمام باتیں حقیقی غلاموں کے طریق سے بعد المشرقین رکھتی ہیں وہ واضح اور پر زور تعلیم جو اسلام نے حاضر الوقت غلاموں کے ساتھ محسنانہ اور مساویانہ سلوک کئے جانے اور ان کی آزادی کے متعلق دی ہے اور جس کا ایک خاکہ اوپر درج کیا جاچکا ہے وہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ اسلام غلامی کے ظالمانہ طریق کی تائید میں نہیں ہوسکتا۔انسانی عقل ہر گز اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ اس تعلیم کے ساتھ ساتھ کہ غلاموں کو اپنا بھائی سمجھو اور انہیں اپنے گھر کے آدمیوں کی طرح رکھو اور ان کی تعلیم وتربیت کا خاص انتظام کرو اور پھر جوں جوں ان کی حالت بہتر ہوتی جاوے اور وہ دنیا میں آزاد زندگی گزارنے کے قابل بنتے جائیں انہیں آزاد کرتے جاؤ۔اسلام میں یہ تعلیم بھی دی جاسکتی تھی کہ کسی آزاد انسان کو اس کی جائز آزادی کے حق سے کلیتہ محروم کر کے حقیقی طور پر غلام بنانا جائز ہے۔ان دونوں قسم کی تعلیم میں بعد القطبین ہے اور وہ کبھی بھی کسی ایک ہی شخص کی تعلیم کا حصہ نہیں بن سکتیں۔پس غور کیا جاوے تو دراصل وہ تعلیم ہی جس کا خاکہ اوپر والے مضمون میں درج کیا گیا ہے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اسلام میں حقیقی غلامی کی تعلیم نہیں دی گئی۔دوسری دلیل جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں حقیقی غلامی کو جائز نہیں سمجھا گیا یہ ہے کہ اسلامی لٹریچر کے کسی حصہ میں یہ حکم موجود نہیں کہ کسی آزاد شخص کو اس کی آزادی کے جائز حق سے محروم کر کے حقیقی طور پر غلام بنا لینا جائز ہے یا یہ کہ اگر کسی آزاد شخص کو غلام بنانا ہو تو اس کا یہ یہ طریق ہے۔حالانکہ غلامی کے دوسرے مسائل مثلاً غلاموں کے ساتھ سلوک کرنے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنے اور انہیں آزاد کرنے کے متعلق اسلامی شریعت میں نہایت تفصیلی احکام موجود ہیں۔پس غلاموں کے بارے میں دوسرے ہر قسم کے مسائل کا پایا جانا، لیکن غلام بنانے کے سوال کے متعلق قطعاً کسی جوازی حکم کا پایا نہ جانا اس بات میں ہرگز کسی شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ دراصل اسلام میں حقیقی غلامی کو جائز ہی نہیں سمجھا گیا۔میں نے بہت تلاش کی ہے مگر مجھے کسی قرآنی آیت یا کسی روایت میں خدایا اس کے رسول کا یہ حکم نظر