سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 463
۴۶۳ قیامت کے دن لڑوں گا۔ایک وہ شخص جو میرا واسطہ دے کر کسی سے کوئی عہد باندھتا ہے اور پھر بد عہدی کرتا ہے۔دوسرے وہ جو اسے غلام بنا تا ہے جسے خدا نے آزاد رکھا ہے اور تیسرے وہ جو مزدور سے کام لیتا ہے اور پھر اس کی مزدوری نہیں دیتا۔“ ان حدیثوں میں جس وضاحت اور تعیین کے ساتھ اور جس زور دار طریق پر حقیقی غلامی کو منسوخ کیا گیا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں ہے اور پھر یہ حدیثیں بھی حدیث کی اس قسم میں داخل ہیں جو محدثین کی اصطلاح میں حدیث قدسی کہلاتی ہے یعنی جو ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہے مگر اس میں حکم اور الفاظ خدا کے ہوتے ہیں۔اب اس واضح اور صریح تعلیم کے ہوتے ہوئے کسی کا یہ کہنا کہ اسلام میں حقیقی غلامی کو جائز رکھا گیا ہے یعنی اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی آزاد انسان کو اس کی جائز آزادی کے حق سے محروم کر کے حقیقی طور پر غلام بنالیا جاوے ایک انتہائی درجہ کا ظلم ہے جس کے ارتکاب کی کوئی دیانت دار شخص جرات نہیں کر سکتا۔جنگی قیدیوں کا مسئلہ اب ہم جنگی قیدیوں کے سوال کو لیتے ہیں اور در حقیقت اگر اسلام میں غلام بنانے کے جواز کی کوئی صورت سمجھی جاسکتی ہے تو وہ صرف اسی سوال کے ماتحت آتی ہے، لیکن جیسا کہ ابھی ظاہر ہو جائے گا غلامی کی یہ قسم دراصل حقیقی غلامی نہیں ہے بلکہ ایک محض جزوی مشابہت کی وجہ سے اسے یہ نام دے دیا گیا ہے اور پھر اس غیر حقیقی غلامی کو بھی اسلام نے ایسی شرائط کے ساتھ مشروط کر دیا ہے کہ وہ ایک عالمگیر چیز نہیں رہتی بلکہ بعض خاص قسم کے حالات میں محدود ہو جاتی ہے اس بحث میں سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ جیسا کہ تاریخ عالم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے غلامی کی ابتدائے دنیا میں جنگی قیدیوں سے ہوئی تھی اور بعد میں آہستہ آہستہ دوسرے ظالمانہ طریق ایجاد ہوتے گئے۔جس کی وجہ سے بالآخر غلامی جو دراصل ابتدائی زمانہ کے حالات کا ایک لازمی نتیجہ تھی ایک بھیانک صورت اختیار کرگئی اور بجائے ظلم کو روکنے کا باعث بننے کے جو اس کی اصل غرض تھی وہ خود ظلم و ستم کا ایک خطرناک آلہ بن گئی۔ابتداء یہ طریق تھا گو بعد میں اس کے ساتھ اور اور ظالمانہ طریق شامل ہو گئے ( جنہیں نہ صرف اسلام نے مٹادیا بلکہ اس ابتدائی طریق کو بھی مزید پاک وصاف کر کے اسے ایک نہایت پاکیزہ صورت دے دی ) کہ جب ایک قوم دوسری قوم پر حملہ آور ہو کر اسے صفحہ دنیا سے مٹا دینے یا اس کی آزادی کو چھین کر اسے بلا وجہ اپنے ماتحت کر لینے کے درپے ہوتی تھی تو مؤخر الذکر قوم غلبہ حاصل کرنے پر حملہ آور قوم کے آدمیوں کو قید کر کے اپنے پاس روک لیتی تھی کیونکہ اگر ظالم لوگوں کو اس طرح روک لینے کا