سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 371
۳۷۱ اور بالآخر مقام وڈان تک پہنچے۔اس علاقہ میں قبیلہ بنو ضمرہ کے لوگ آباد تھے۔یہ قبیلہ بنو کنانہ کی ایک شاخ تھا اور اس طرح گویا یہ لوگ قریش کے چازاد بھائی تھے۔یہاں پہنچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو ضمرة کے رئیس کے ساتھ بات چیت کی اور باہم رضامندی سے آپس میں ایک معاہدہ ہو گیا۔جس کی شرطیں یہ تھیں کہ بنو مرۃ مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مسلمانوں کی مدد کے لئے بلائیں گے، تو وہ فوراً آجائیں گے۔دوسری طرف آپ نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد کیا کہ مسلمان قبیلہ بنوضمرة کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقت ضرورت ان کی مدد کریں گے۔یہ معاہدہ با قاعدہ لکھا گیا اور فریقین کے اس پر دستخط ہوئے اور پندرہ دن کی غیر حاضری کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے یا غزوہ وڈ ان کا دوسرا نام غزوہ ابوا بھی ہے کیونکہ وڈان کے قریب ہی ابوا کی بستی بھی ہے اور یہ مقام ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا تھا۔مؤرخین لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس غزوہ میں بن ضمرہ کے ساتھ قریش مکہ کا بھی خیال تھا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ دراصل آپ کی یہ مہم قریش کی خطرناک کارروائیوں کے سدباب کے لئے تھی اور اس میں زہر یلے اور خطرناک اثر کا ازالہ مقصود تھا جو قریش کے قافلے وغیرہ مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں پیدا کر رہے تھے اور جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت ان ایام میں بہت نازک ہو رہی تھی۔یہ عبيدة بن الحارث ربیع الاول ۲ ہجری غزوہ وڈان سے واپس آنے پر ماہ ربیع الاول کے شروع میں آپ نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار ، عبيدة بن الحارث مطلبی کی امارت میں ساٹھ شتر سوار مہاجرین کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔اس مہم کی غرض بھی قریش مکہ کے حملوں کی پیش بندی تھی۔چنانچہ جب عبیدۃ بن الحارث اور ان کے ساتھی کچھ مسافت طے کر کے ثنية المرة کے پاس پہنچے تو ناگاہ کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کے دوسو مسلح نو جوان عکرمہ بن ابو جہل کی کمان میں ڈیرہ ڈالے پڑے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے سامنے ہوئے اور ایک دوسرے کے مقابلہ میں کچھ تیر اندازی بھی ہوئی۔لیکن پھر مشرکین کا گروہ یہ خوف کھا کر کہ مسلمانوں کے پیچھے کچھ کمک مخفی ہوگی ان کے مقابلہ سے پیچھے ہٹ گیا اور مسلمانوں نے ان کا پیچھا نہیں کیا۔البتہ مشرکین کے لشکر میں سے دو شخص مقداد بن عمر و در عتبہ بن غزوان ہعکرمہ بن ابو جہل کی کمان سے خود بخود بھاگ کر مسلمانوں کے ساتھ ابن ہشام وزرقانی : ابن ہشام وطبری سے : تاریخ الخمیس