سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 370
٣٧٠ ابتدائی لڑائیاں ، روزہ کی ابتدا، تحویل قبلہ اور جنگ بدر کے متعلق ابتدائی بحث غزوات وسرایا کا آغاز اور غزوہ وڈان صفر ۲ ہجری اب مغازی کا عملی آغاز ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ کبھی تو خود صحابہ کو ساتھ لے کر نکلتے تھے اور کبھی کسی صحابی کی امارت میں کوئی دستہ روانہ فرماتے تھے۔مؤرخین نے ہر دو قسم کی مہموں کو الگ الگ نام دئے ہیں۔چنانچہ جس مہم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بنفس نفیس شامل ہوئے ہوں اس کا نام مؤرخین غزوہ رکھتے ہیں اور جس میں آپ خود شامل نہ ہوئے ہوں اس کا نام سریہ یا بعث رکھا جاتا ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ غزوہ اور سر یہ دونوں میں مخصوص طور پر جہاد بالسیف کی غرض سے نکلنا ضروری نہیں بلکہ ہر وہ سفر جس میں آپ جنگ کی حالت میں شریک ہوئے ہوں غزوہ کہلاتا ہے خواہ وہ خصوصیت کے ساتھ لڑنے کی غرض سے نہ کیا گیا ہو اور اسی طرح ہر وہ سفر جو آپ کے حکم سے کسی جماعت نے کیا ہو مؤرخین کی اصطلاح میں سریہ یا بعث کہلاتا ہے خواہ اس کی غرض وغایت لڑائی نہ ہو لیکن بعض لوگ ناواقفیت سے ہر غزوہ اور سریہ کو لڑائی کی مہم سمجھنے لگ جاتے ہیں جو درست نہیں۔یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ جہاد بالسیف کی اجازت ہجرت کے دوسرے سال ماہ صفر میں نازل ہوئی۔چونکہ قریش کے خونی ارادوں اور ان کی خطرناک کارروائیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے فوری کارروائی کی ضرورت تھی اس لئے آپ اسی ماہ میں مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے۔روانگی سے قبل آپ نے اپنے پیچھے مدینہ میں سعد بن عبادہ رئیس خزرج کو امیر مقرر فرمایا اور مدینہ سے جنوب مغرب کی طرف مکہ کے راستہ پر روانہ ہو گئے