سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 372 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 372

۳۷۲ آملے اور لکھا ہے کہ وہ اسی غرض سے قریش کے ساتھ نکلے تھے کہ موقع پا کر مسلمانوں میں آملیں یا کیونکہ وہ دل سے مسلمان تھے مگر بوجہ اپنی کمزوری کے قریش سے ڈرتے ہوئے ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور ممکن ہے کہ اسی واقعہ نے قریش کو بد دل کر دیا ہو اور انہوں نے اسے بد فال سمجھ کر پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔تاریخ میں یہ مذکور نہیں ہے کہ قریش کا یہ لشکر جو یقیناً کوئی تجارتی قافلہ نہیں تھا اور جس کے متعلق ابن اسحاق نے جمع عظیم (یعنی ایک بڑا لشکر ) کے الفاظ استعمال کئے ہیں کسی خاص ارادہ سے اس طرف آیا تھا لیکن یہ یقینی ہے کہ ان کی نیت بخیر نہیں تھی اور یہ خدا کا فضل تھا کہ مسلمانوں کو چوکس پا کر اور اپنے آدمیوں میں سے بعض کو مسلمانوں کی طرف جاتا دیکھ کر ان کو ہمت نہیں ہوئی اور وہ واپس لوٹ گئے اور صحابہ کو اس مہم کا یہ عملی فائدہ ہو گیا کہ دو مسلمان روحیں قریش کے ظلم سے نجات پاگئیں۔سریہ حمزہ بن عبد المطلب ربیع الاول ۲ ہجری اسی ماہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں شتر سوار مہاجرین کے ایک اور دستہ کو اپنے حقیقی چا حمزہ بن عبد المطلب کی سرداری میں مدینہ سے مشرقی جانب سیف البحر علاقہ عیص کی طرف روانہ فرمایا۔حمزہ اور ان کے ساتھی جلدی جلدی وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مکہ کارئیس اعظم ابو جہل تین سو سواروں کا ایک لشکر لئے ان کے استقبال کو موجود ہے۔مسلمانوں کی تعداد سے یہ تعداد دس گنے زیادہ تھی مگر مسلمان خدا اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل میں گھر سے نکلے تھے اور موت کا ڈرانہیں پیچھے نہیں ہٹا سکتا تھا۔دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل میں صف آرائی کرنے لگ گئیں اور لڑائی شروع ہونے والی ہی تھی کہ اس علاقہ کے رئیس مجددی بن عمر والجبنی نے جو دونوں فریق کے ساتھ تعلقات رکھتا تھا درمیان میں پڑ کر بیچ بچاؤ کرا دیا اور لڑائی ہوتے ہوتے رک گئی۔ابن سعد نے جو عموماً اپنے استاد واقدی کی اتباع کرتا ہے لکھا ہے کہ یہ قریش کا ایک قافلہ تھا جس سے مسلمانوں کا سامنا ہوا تھا لیکن ابن اسحاق نے بروایت ابن ہشام قافلہ کا کوئی ذکر نہیں کیا بلکہ صرف یہ لکھا ہے کہ قریش کے تین سو سواروں سے سامنا ہوا تھا جو ابوجہل کے زیر کمان تھے اور کفار کی تعداد اور دوسرے قرائن سے ابن اسحاق کی روایت صحیح ثابت ہوتی ہے اور یہ یقینی ہے کہ کفار کا یہ دستہ مسلمانوں کے خلاف نکلا تھا۔چنانچہ کر زبن جابر فہری کا حملہ بھی جس کا ذکر آگے آتا ہے اس خیال کا مؤید ہے۔لے طبری وابن ہشام ابن ہشام وطبری