سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 254 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 254

۲۵۴ میں معزز ومحبوب ہے اور وہ خاندان آج تک اس کی حفاظت کا ضامن رہا ہے اور ہر خطرہ کے وقت میں اس کے لیے سینہ سپر ہوا ہے مگر اب محمد کا ارادہ اپنا وطن چھوڑ کر تمہارے پاس چلے جانے کا ہے۔سواگر تم اسے اپنے پاس لے جانے کی خواہش رکھتے ہو تو تمہیں اس کی ہر طرح حفاظت کرنی ہوگی اور ہر دشمن کے ساتھ سینہ سپر ہونا پڑے گا۔اگر تم اس کے لیے تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف صاف جواب دے دو کیونکہ صاف صاف بات اچھی ہوتی ہے۔البراء بن معرور جو انصار کے قبیلہ کے ایک معمر اور با اثر بزرگ تھے نے کہا ” عباس ! ہم نے تمہاری بات سن لی ہے مگر ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ خود بھی اپنی زبان مبارک سے کچھ فرما دیں اور جو ذ مہ داری ہم پر ڈالنا چاہتے ہیں وہ بیان فرما دیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف کی چند آیات تلاوت فرمائیں اور پھر ایک مختصری تقریر میں اسلام کی تعلیم بیان فرمائی اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے لیے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جس طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہو۔اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ بھی معاملہ کرو۔جب آپ تقریر ختم کر چکے تو البراء بن معرور نے عرب کے دستور کے مطابق آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا یا رسول اللہ ! ہمیں اس خدا کی قسم ہے جس نے آپ کو حق وصداقت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے ہم لوگ تلواروں کے سایہ میں پہلے ہیں اور مگر ابھی وہ بات ختم کرنے نہ پائے تھے کہ ابوالبیشم بن تیہان نے جن کا ذکر اوپر گذر چکا ہے ان کی بات کاٹ کر کہا 'یا رسول اللہ ! یثرب کے یہود کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔آپ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے۔ایسا نہ ہو کہ جب اللہ آپ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن میں واپس تشریف لے آویں اور ہم نہ ادھر کے رہیں اور نہ اُدھر کے۔آپ نے ہنس کر فرمایا ”نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔تمہارا خون میرا خون ہو گا۔تمہارے دوست میرے دوست اور تمہارے دشمن میرے دشمن۔اس پر عباس بن عبادہ انصاری نے اپنے ساتھیوں پر نظر ڈال کر کہا۔لوگو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس عہد و پیمان کے کیا معنے ہیں؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ اب تمہیں ہر اسود واحمر کے مقابلہ کے لیے تیار ہونا چاہیئے اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہنا چاہیئے۔لوگوں نے کہا ”ہاں ہم جانتے ہیں۔مگر یا رسول اللہ ! اس کے بدلہ میں ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا: تمہیں خدا کی جنت ملے گی ، جو اس کے سارے انعاموں میں سے بڑا انعام ہے۔سب نے کہا ” ہمیں یہ سودا منظور۔یا رسول اللہ ! اپنا ہاتھ آگے کریں۔آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھا دیا اور یہ ستر جاں نثاروں کی جماعت ایک دفاعی معاہدہ میں آپ کے