سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 253 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 253

۲۵۳ آئے تھے۔مصعب بن عمیر بھی ان کے ساتھ تھے۔مصعب کی ماں زندہ تھی اور گومشرکہ تھی مگر ان سے بہت محبت کرتی تھی۔جب اسے ان کے آنے کی خبر ملی تو اس نے ان کو کہلا بھیجا کہ پہلے مجھ سے آ کر مل جاؤ پھر کہیں دوسری جگہ جانا۔مصعب نے جواب دیا کہ ”میں ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملا آپ سے مل کر پھر تمہارے پاس آؤں گا۔چنا نچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔آپ سے مل کر اور ضروری حالات عرض کر کے پھر اپنی ماں کے پاس گئے۔وہ بہت جلی بھنی بیٹھی تھی۔ان کو دیکھ کر بہت روئی اور بڑا شکوہ کیا۔مصعب نے کہا ”ماں ! میں تم سے ایک بڑی اچھی بات کہتا ہوں جو تمہارے واسطے بہت ہی مفید ہے اور سارے جھگڑوں کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔“اس نے کہا وہ کیا ہے؟ مصعب نے آہستہ سے جواب دیا۔”بس یہی کہ بت پرستی ترک کر کے مسلمان ہو جاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ۔وہ پکی مشرکہ تھی ، سنتے ہی شور مچادیا کہ ” مجھے ستاروں کی قسم ہے میں تمہارے دین میں کبھی داخل نہ ہوں گی۔اور اپنے رشتہ داروں کو اشارہ کیا کہ مصعب کو پکڑ کر قید کر لیں مگر وہ بھاگ کر نکل گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مصعب سے انصار کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی اور ان میں سے بعض لوگ آپ سے انفرادی طور پر ملاقات بھی کر چکے تھے۔مگر چونکہ اس موقع پر ایک اجتماعی اور خلوت کی ملاقات کی ضرورت تھی ، اس لئے مراسم حج کے بعد ماہ ذی الحجہ کی وسطی تاریخ مقرر کی گئی کہ اس دن نصف شب کے قریب یہ سب لوگ گذشتہ سال والی گھائی میں آپ کو آکر ملیں تا کہ اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ علیحدگی میں بات چیت ہو سکے اور آپ نے انصار کو تا کید فرمائی کہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ ایک ایک دو دو کر کے وقت مقررہ پر گھائی میں پہنچ جائیں اور سوتے کو نہ جگائیں اور نہ غیر حاضر کا انتظار کریں یے چنانچہ جب مقررہ تاریخ آئی تو رات کے وقت جبکہ ایک تہائی رات جا چکی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے گھر سے نکلے اور راستہ میں اپنے چچا عباس کو ساتھ لیا جو ابھی تک مشرک تھے مگر آپ سے محبت رکھتے تھے اور خاندان ہاشم کے رئیس تھے اور پھر دونوں مل کر اس گھائی میں پہنچے۔ابھی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ انصار بھی ایک ایک دو دو کر کے آپہنچے۔یہ ستر اشخاص تھے اور اوس و خزرج دونوں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔سب سے پہلے عباس نے گفتگو شروع کی کہ اے خزرج کے گروہ! (محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے خاندان : اسدالغابہ : ابن سعد سے : عرب کے لوگ اوس اور خزرج دونوں کو عام طور پر صرف خزرج کے نام سے یاد کرتے تھے۔