سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 255 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 255

۲۵۵ ہاتھ پر بک گئی۔اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔جب بیعت ہو چکی تو آپ نے اُن سے فرمایا کہ موسیٰ نے اپنی قوم میں سے بارہ نقیب چنے تھے ، جو موسی“ کی طرف سے اُن کے نگران اور محافظ تھے۔میں بھی تم میں سے بارہ نقیب مقرر کرنا چاہتا ہوں جو تمہارے نگران اور محافظ ہوں گے اور وہ میرے لیے عیسی کے حواریوں کی طرح ہوں گے اور میرے سامنے اپنی قوم کے متعلق جوابدہ ہوں گے۔پس تم مناسب لوگوں کے نام تجویز کر کے میرے سامنے پیش کرو۔چنانچہ بارہ آدمی تجویز کئے گئے جنہیں آپ نے منظور فرمایا۔اور انہیں ایک ایک قبیلہ کا نگران مقرر کر کے اُن کے فرائض سمجھا دیئے اور بعض قبائل کے لیے آپ نے دو دو نقیب مقرر فرمائے۔بہر حال ان بارہ نقیبوں کے نام یہ ہیں: ا - اسعد بن زراره ان کا ذکر اوپر گذر چکا ہے۔قبیلہ خزرج کے خاندان بنو نجار میں سے تھے۔جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری تھی۔یثرب میں نماز جمعہ کی ابتدا انہی کے ہاتھوں سے ہوئی۔اوّل درجہ کے مخلصوں میں سے تھے۔ہجرت کے بعد جنگ بدر سے پہلے فوت ہو گئے۔اشهل ٢ - أسيد بن الحضير ان کا ذکر بھی گذر چکا ہے۔قبیلہ اوس کے خاندان بنو عبدالاحم تھے اور اکابر صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ان کا والد جنگ بعاث میں قبیلہ اوس کا قائد اعظم تھا۔اُسید نہایت مخلص اور نہایت سمجھدار تھے۔حضرت عائشہ فرمایا کرتی تھیں کہ انصار میں سے تین اشخاص اپنی افضلیت میں جواب نہیں رکھتے تھے یعنی اُسید بن الحضیر۔سعد بن معاذ اور عباد بن بشر اور اس میں شبہ نہیں کہ اُسید بڑے پائے کے صحابی تھے۔حضرت ابو بکر اُسید کی بڑی عزت کرتے تھے۔عہد فاروقی میں ۳- ابوالھیثم مالک بن تیہان وفات پائی۔ان کا ذکر بھی اُوپر گذر چکا ہے۔حلفاء بنی عبدالا شھل سے تھے۔جنگ صفین میں حضرت علیؓ کی طرف سے ہو کر لڑے اور شہادت پائی۔ا : طبری وابن ہشام : ابن ہشام و ابن سعد و طبری وزرقانی