سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 230
۲۳۰ ودیعت کی جائے گی جس میں ان نتائج کو جو خدا پیدا کرے گا ان کے ظاہری اسباب سے کوئی نسبت نہیں ہوگی اور مسلمانوں کی سواری گویا بجلی کی طرح اُڑتی ہوئی آگے نکل جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔تیسرے اس روحانی نظارہ میں یہ اشارہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے جس نئے ماحول کا دروازہ کھولا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس میں اسلام کے لیے ہر قسم کی برکات رکھی ہیں۔جیسا کہ فرمایا۔بُرَكْنَا حَوْلَهُ یعنی ہم نے اس نئے میدان کے ماحول کو تمہارے لیے بابرکت بنایا ہے۔اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا کہ عرب اور اہل عرب کی حدود سے باہر نکل کر اسلام نے ایسا محسوس کیا کہ گویا یہ ماحول پہلے سے ہی انہی کے لیے تیار کیا جا چکا تھا اور اس محاذ میں اسلام کی غیر معمولی فتوحات پہلے سے مقدر تھیں۔دوران سفر میں جو نظارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے گئے ان کی تشریح تو خود کشف کے اندر موجود ہے کہ ان فتوحات کے زمانہ میں مسلمانوں کو دنیا کے اموال و امتعہ اپنی طرف کھینچیں گے مگر گو یہ دنیا کی نعمتوں کا پانی پینے کی حد تک بے شک استعمال کیا جائے لیکن چونکہ اس کی کثرت غرق کر دینے کا سامان بھی اپنے ساتھ رکھتی ہے اس لیے مسلمانوں کو اس کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ابلیس کا نظارہ عقیدہ کی گمراہیوں اور ضلالتوں کا مجسمہ ہے اور مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کی فاتحانہ یلغار میں انہیں شیطانی طاقتیں جادہ صواب سے منحرف نہ کر دیں۔پھر نبیوں کی ملاقات ہے جو اپنے اندر برکت اور سلام کے پیغام کے علاوہ یہ معنی بھی رکھتی ہے کہ آئندہ فتوحات میں دنیا کی قو میں اسلامی برکات سے متمتع ہو کر اس کی برتری کا سکہ مانیں گی۔چنانچہ یہ ایک تاریخ کا کھلا ہوا ورق ہے کہ یورپ و امریکہ کی موجودہ بیداری اسلام ہی کے ساتھ واسطہ پڑنے کے نتیجہ میں ہے۔ورنہ اسلام سے قبل یہ سب قو میں جہالت کی نیند سورہی تھیں اور یورپ کے غیر متعصب محققین نے اسلام کے اس فیض و برکت کو کھلے الفاظ میں تسلیم کیا ہے اور اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مغرب نے علوم جدیدہ کا پہلا سبق اسلام ہی سے سیکھا ہے۔بالآخر بیت المقدس میں پہنچ کر آپ کی اقتدا میں گذشتہ نبیوں کے نماز پڑھنے کا نظارہ ہے۔مگر یہ نظارہ ایسا ہے جو خود اپنی آپ تفسیر ہے جس کے لیے کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔اسی طرح اسراء میں بعض اور حقائق بھی ہیں مگر ہم اختصار کے خیال سے صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔الغرض معراج اور اسراء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نہایت اعلیٰ درجہ کے کشوف تھے جن میں آپ کو آپ کی اور آپ کی اُمت کی آئندہ فتوحات اور ترقیوں کے نظارے دکھائے گئے اور بعد کے : فال آف دی رومن ایمپائر مصنفہ گین اور انسائیکلو پیڈیا برٹیز کا۔له : سورۃ بنی اسرائیل : ۲